خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 346 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 346

خطبات مسرور جلد 14 346 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 جون 2016 جوش اور درد سے بے قرار ہو کر آستانہ الوہیت پر گرے گی اور چلائے گی اور یارب یارب کہہ کر پکارے گی۔غور سے قرآن کریم کو دیکھو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ پہلی ہی سورت میں اللہ تعالیٰ نے دعا کی تعلیم دی ہے۔اهْدِنَا الشيراط الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ (الفاتحه:8 -7)" فرمايا کہ "دعاتب ہی جامع ہو سکتی ہے کہ وہ تمام منافع اور مفاد کو اپنے اندر رکھتی ہو اور تمام نقصانوں اور مضرتوں سے ا بچاتی ہو۔" دعا وہی صحیح ہے جو ہر قسم کے منافع، انسان کو جو نفع مل سکتا ہے یا اس کے مفاد میں جو بہتر ہے وہ اپنے اندر دعاوہی لئے ہوئے ہو اور نقصانوں اور جو تکلیفیں پہنچ سکتی ہیں ان سے اس کو بچانے والی ہو " پس اس دعا میں " اهْدِنَا القِيرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سے لے کر وَلَا الضَّالّتين تک " تمام بہترین منافع جو ہو سکتے ہیں اور ممکن ہیں وہ اس دعا میں مطلوب ہیں اور بڑی سے بڑی نقصان رساں چیز جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے اُس سے بچنے کی دعا ہے۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 411-412) پس اس بات کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ اس میں جو سب سے بڑی دعائیں کی گئی ہیں وہ دنیاوی دعائیں نہیں ہیں، دین کی دعا ہے۔پس اپنی دعاؤں میں ہمیں سب سے مقدم اپنے دین کو بچانے کی دعا کرنی چاہیئے۔جب انسان یہ کرے تو پھر اللہ تعالیٰ کے قرب کے دروازے کھلتے ہیں اور پھر باقی دعائیں خود بخود قبول ہوتی چلی جاتی ہیں۔اس کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے کہ اصل دعا دین کی مضبوطی کی دعا ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کے قرب اور دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ بنتی ہے۔آپ فرماتے ہیں: أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة: 187) یعنی میں تو بہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ اس اقرار کو جائز قرار دیتا ہے جو کہ بچے دل سے توبہ کرنے والا کرتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اس قسم کا اقرار نہ ہو تا تو پھر تو بہ کا منظور ہونا ایک مشکل امر تھا۔سچے دل سے جو اقرار کیا جاتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر خدا تعالیٰ بھی اپنے تمام وعدے پورے کرتا ہے جو اس نے تو بہ کرنے والوں کے ساتھ کئے ہیں اور اسی وقت سے ایک نور کی تجلی اس کے دل میں شروع ہو جاتی ہے۔جب انسان یہ اقرار کرتا ہے کہ میں تمام گناہوں سے بچوں گا اور دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔" (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 300) اللہ تعالیٰ نے اپنے قرب اور دعا کی قبولیت کے جو طریق بتائے ہیں اس میں سے سب سے اعلیٰ ذریعہ نماز کی حالت کو بتایا ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : نماز کی اصلی غرض اور مغز دعا ہی ہے اور دعا مانگا اللہ تعالیٰ کی قانون قدرت کے عین مطابق ہے۔مثلاً ہم عام طور پر دیکھتے ہیں کہ جب بچہ روتا دھوتا ہے اور اضطراب ظاہر کرتا ہے تو ماں کس قدر بیقرار ہو کر اس کو دودھ