خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 345 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 345

خطبات مسرور جلد 14 345 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 جون 2016 جو گند نکلے گاوہ کس طرح بنے گا۔اسی طرح پر سب سے اول اس نے یہ فضل کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام جیسا مکمل دین دے کر بھیجا اور آپ کو خاتم النبیین ٹھہرایا اور قرآن شریف جیسی کامل اور خاتم الکتاب عطا فرمائی جس کے بعد قیامت تک نہ کوئی کتاب آئے گی اور نہ کوئی نیا نبی نئی شریعت لے کر آئے گا۔پھر جو قوی سوچ اور فکر کے ہیں ان سے اگر ہم کام نہ لیں اور خدا تعالیٰ کی طرف قدم نہ اٹھائیں تو کس قدر سستی اور کاہلی اور ناشکری ہے۔غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے اس پہلی ہی سورۃ میں ہمارے لئے کس قدر مبسوط طریق پر فضل کی راہ بتادی ہے۔" پس انسان کے لئے فائدہ اٹھانے کا یہ طریقہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نبی ہمیں عطا کیا تو آپ کی سنت پر چلنے والے ہوں۔قرآن کریم جیسی کتاب ہمیں عطا کی تو اس کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوں۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس پہلی سورۃ میں یعنی سورۃ فاتحہ میں ہی ہمارے لئے کس قدر مبسوط طریق پر فضل کی راہ بتادی ہے۔" اس سورۃ میں جس کا نام خاتم الکتاب اور ام الکتاب بھی ہے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ انسانی زندگی کا کیا مقصد ہے اور اس کے حصول کی کیا راہ ہے ؟ اِيَّاكَ نَعْبُدُ گویا انسانی فطرت کا اصل تقاضا اور منشاء ہے اور وہ ايَّاكَ نَسْتَعِينُ پر مقدم کر کے یہ بتایا ہے کہ پہلے ضروری ہے کہ جہاں تک انسان کی اپنی طاقت ، ہمت اور سمجھ میں ہو خدا تعالیٰ کی رضامندی کی راہوں کے اختیار کرنے میں سعی اور مجاہدہ کرے اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں سے پورا کام لے اور اس کے بعد پھر خدا تعالیٰ سے اس کی تکمیل اور نتیجہ خیز ہونے کے لئے دعا کرے۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 353-354) اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کے ذرائع کیا ہیں؟ اس کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : یہ سچی بات ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء: 29)۔انسان کمز ور مخلوق ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم کے بدوں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔" فضل نہ ہو تو انسان کچھ نہیں کر سکتا۔" اس کا وجو د اور اس کی پرورش اور بقاء کے سامان سب کے سب اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہیں۔احمق ہے وہ انسان جو اپنی عقل و دانش یا اپنے مال و دولت پر ناز کرتا ہے کیونکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا عطیہ ہے۔وہ کہاں سے لایا اور دُعاء کے لئے یہ ضروری بات ہے کہ انسان اپنے ضعف اور کمزوری کا پورا خیال اور تصور کرے۔جوں جوں وہ اپنی کمزوری پر غور کرے گا اسی قدر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مدد کا محتاج پائے گا اور اس طرح پر دعا کے لئے اس کے اندر ایک جوش پیدا ہو گا۔"لوگ کہتے ہیں دعا کے لئے جوش نہیں پیدا ہوتا۔اپنی کمزوری دیکھے ، اپنی عاجزی دیکھے، پھر اس محبت کے تقاضے کو پورا کرنے کی کوشش کرے تو پھر ایک جوش پیدا ہوتا ہے فرمایا " جیسے انسان جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اور دکھ یا تنگی محسوس کرتا ہے تو بڑے زور کے ساتھ پکارتا اور چلاتا ہے اور دوسرے سے مدد مانگتا ہے۔اسی طرح اگر وہ اپنی کمزوریوں اور لغزشوں پر غور کرے گا اور اپنے آپ کو ہر آن اللہ تعالیٰ کی مدد کا محتاج پائے گا تو اس کی روح پورے