خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 12
خطبات مسرور جلد 14 12 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 پس اس پر اگر قرآن کریم کے حکموں پر عمل کرنا ہے تو اس طرف بھی غور کرنا ہو گا۔پھر اس نصیحت کو خاص طور پر ہمیں چاہئے کہ ہم خود پہلے اپنا جائزہ لیں اور ہر ایک کو لینا چاہئے اور یہ بنیادی نصیحت خاص طور پر عہدیداروں کو بھی یاد رکھنی چاہئے جو دوسروں سے تو اپنے اندر تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں، ان کو نصائح کرتے ہیں لیکن اگر اپنے معاملہ میں ایسی صور تحال پید ا ہو جائے تو بالکل اس کے الٹ کرتے ہیں یا اس میں حیل و حجت کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے حکموں کو اور اس کے رسول کے حکموں کو پھر ثانوی حیثیت دے دیتے ہیں۔کئی ایسے معاملے سامنے آجاتے ہیں۔پھر مزید قول و فعل میں تطابق کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ " تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ اگر انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی۔اسی سے تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صداقت معلوم ہوتی ہے کیونکہ جو کامیابی اور تاثیر فی القلوب آپ کے حصے میں آئی اس کی کوئی نظیر بنی آدم کی تاریخ میں نہیں ملتی اور یہ سب اس لئے ہوا کہ آپ کے قول اور فعل میں پوری مطابقت تھی۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 67-68) اور یہی ہمیں حکم ہے کہ آپ کے اسوہ پر چلنے کی کوشش کریں۔پھر صرف ایک اور بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے جو جماعت کے تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے اور ماں باپ کے لئے بھی ضروری ہے اور جو نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کے لئے بھی ضروری ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : آجکل کے تعلیم یافتہ لوگوں پر ایک اور بڑی آفت جو آکر پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کو دینی علوم سے مطلق مش نہیں ہو تا۔"کوئی تعلق نہیں ہوتا۔اس طرف صحیح طرح توجہ نہیں پھیرتے۔" پھر جب وہ کسی ہیئت دان یا فلسفہ دان کے اعتراض پڑھتے ہیں تو اسلام کی نسبت شکوک اور وساوس ان کو پیدا ہو جاتے ہیں۔کسی فلاسفر کے یا کسی scientist کے خدا کے بارے میں یا دین کے بارے میں اعتراض جب پڑھتے ہیں تو شکوک اور وساوس شروع ہو جاتے ہیں۔تب وہ عیسائی یا دہریہ بن جاتے ہیں۔" فرمایا کہ " ایسی حالت میں ان کے والدین بھی ان پر بڑا ظلم کرتے ہیں کہ دینی علوم کی تحصیل کے لئے ذرا سا وقت بھی ان کو نہیں دیتے اور ابتدا ہی سے ایسے دھندوں اور بکھیڑوں میں ڈال دیتے ہیں جو انہیں پاک دین سے محروم کر دیتے ہیں۔" (ملفوظات جلد 1 صفحہ 70) پس والدین کو بچوں کی طرف توجہ دینی چاہئے اور نوجوانوں کو خود اپنا علم حاصل کرنے کے لئے دینی علم حاصل کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے اور جماعت احمدیہ میں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے قرآن شریف، اس کی