خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 344 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 344

خطبات مسرور جلد 14 344 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جون 2016 حقیقی ایمان ہو تا تو وہ ایسا کہنے کی جرات نہ کرتے۔جب کبھی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حضور آیا ہے اور اس نے سچی تو بہ کے ساتھ رجوع کیا ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اس پر فضل کیا ہے۔یہ کسی نے بالکل سچ کہا ہے " فارسی شعر ہے: "عاشق که شد که یار بحالش نظر نه کرد اے خواجہ درد نیست و گرنه طبیب ہست" کہ وہ عاشق ہی کیا ہے کہ محبوب جس کی طرف نظر نہ کرے۔اے صاحب! اے بندے درد ہی نہیں ہے ورنہ طبیب تو موجود ہے۔تیرے اندر درد نہیں ہے۔طبیب موجود ہے۔اپنے اندر درد پیدا کرو اللہ تعالیٰ تو سنتا ہے۔فرمایا: " خدا تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ تم اس کے حضور پاک دل لے کر آجاؤ۔صرف شرط اتنی ہے کہ اس کے مناسب حال اپنے آپ کو بناؤ۔"فَلْيَسْتَجِيبُوالي پر عمل کرو اور وہ سچی تبدیلی جو خدا تعالیٰ کے حضور جانے کے قابل بنادیتی ہے اپنے اندر کر کے دکھاؤ۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میں عجیب در عجیب قدر تیں ہیں اور اس میں لا انتہا فضل و برکات ہیں مگر ان کے دیکھنے اور پانے کے لئے محبت کی آنکھ پیدا کر و۔اگر سچی محبت ہو تو خدا تعالیٰ بہت دعائیں سنتا ہے " پس ایسی محبت اللہ تعالیٰ سے پیدا کر وجو دعائیں سننے والا ہو۔اگر سچی محبت ہو گی تو بہت دعائیں سنتا ہے " اور تائیدیں کرتا ہے۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 352-353) خدا تعالیٰ کی سچی محبت کو پانے کے لئے انسان کو کیسا ہونا چاہئے جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ دعائیں بھی سنے اور اپنی قربت کا اظہار بھی کرے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: "شرط یہی ہے کہ محبت اور اخلاص خدا تعالیٰ سے ہو۔خدا کی محبت ایسی شے ہے جو انسان کی سفلی زندگی کو جلا کر اسے ایک نیا اور مصفی انسان بنا دیتی ہے۔" پاک کر دیتی ہے " اس وقت وہ وہ کچھ " دیکھتا ہے جو پہلے نہیں دیکھتا تھا اور وہ کچھ سنتا ہے جو پہلے نہیں سنتا تھا۔غرض خدا تعالیٰ نے جو کچھ مائدہ فضل و کرم کا انسان کے لئے تیار کیا ہے اس کے حاصل کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے استعدادیں بھی عطا کی ہیں "صرف چیزیں نہیں بنائیں۔ہمیں استعدادیں بھی دی ہیں کہ ان کو استعمال کریں اور ان سے فائدہ اٹھائیں " اگر وہ استعدادیں تو عطا کر تالیکن سامان نہ ہو تاتب بھی ایک نقص تھا یا اگر سامان تو ہو تا لیکن استعدادیں نہ ہو تیں، تو کیا فائدہ تھا؟ مگر نہیں یہ بات نہیں ہے۔اس نے استعداد بھی دی اور سامان بھی مہیا کیا۔جس طرح پر ایک طرف روٹی کا سامان پید ا کیا تو دوسری طرف آنکھ ، زبان، دانت اور معدہ دے دیا اور جگر اور امعاء کو کام میں لگا دیا اور ان تمام کاموں کا مدار غذا پر رکھ دیا۔" جگر معدہ انتڑیاں یہ سب چیزیں ہیں جو غذا کو ہضم کرنے کے لئے ضروری ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ "اگر پیٹ کے اندر ہی کچھ نہ جائے گاتو دل میں خون کہاں سے آئے گا۔کیلوس کہاں سے بنے گا۔" غذا جو صاف ہو کے خون کا حصہ بنے گی باقی