خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 343
خطبات مسرور جلد 14 343 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 جون 2016 رکھی اور سوچنے اور تفکر کی قوتیں ودیعت کی ہیں۔پس یا د ر کھو اگر ہم ان قوتوں اور طاقتوں کو معطل چھوڑ کر دعا کرتے ہیں تو یہ دعا کچھ بھی مفید اور کار گر نہ ہو گی کیونکہ جب پہلے عطیہ سے کچھ کام نہیں لیا تو دوسرے سے کیا نفع اٹھا ئیں گے۔اس لئے اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمُ سے پہلے إِيَّاكَ نَعْبُدُ بتا رہا ہے کہ ہم نے تیرے پہلے عطیوں اور قوتوں کو بیکار اور برباد نہیں کیا۔یادر کھور حمانیت کا خاصہ یہی ہے کہ وہ رحیمیت سے فیض اٹھانے کے قابل بنادے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے جو اُدعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : 61) فرمایا یہ نری لفاظی نہیں ہے بلکہ انسانی شرف اسی کا متقاضی ہے۔مانگنا انسانی خاصہ ہے اور جو استجابت جو اللہ تعالیٰ کا نہیں " جو اللہ تعالیٰ کی قبولیت دعا کی تلاش میں نہیں ہے " وہ ظالم ہے۔دعا ایک ایسی سرور بخش کیفیت ہے " فرمایا کہ " مجھے افسوس ہوتا ہے کہ میں کن الفاظ میں اس لذت اور سرور کو دنیا کو سمجھاؤں۔یہ تو محسوس کرنے ہی سے پتہ لگے گا۔مختصر یہ کہ دعا کے لوازمات سے اول ضروری یہ ہے کہ اعمالِ صالحہ اور اعتقاد پیدا کریں "نیک عمل ہوں۔وہ عمل ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے کرنے کا حکم دیا ہے اور اپنا اعتقاد، اپنا ایمان مضبوط کریں " کیونکہ جو شخص اپنے اعتقادات کو درست نہیں کرتا اور اعمال صالحہ سے کام نہیں لیتا او ردعا کرتا ہے وہ گویا خدا تعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔تو بات یہ ہے کہ اهْدِنَا الخراط الْمُسْتَقِيمَ کی دعا میں یہ مقصود ہے کہ ہمارے اعمال کو اکمل اور اتم کر اور پھر یہ کہہ کر کہ صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اور بھی صراحت کر دی کھول دیا کہ ہم اس صراط کی ہدایت چاہتے ہیں جو منعم علیہ گروہ کی راہ ہے " ایسے لوگوں کی راہ ہمیں دے جن پر تو نے انعام کیا ہوا ہے اور فرمایا " اور مغضوب گروہ کی راہ سے بچا۔" جن پر تیر ا غضب نازل ہوا ان کے رستے پر چلنے سے ہمیں بچا۔ہمارے اعمال ہمیشہ ٹھیک رہیں۔کوئی ایسی بات نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کے حکموں کے خلاف ہو فرمایا کہ " جن پر بد اعمالیوں کی وجہ سے عذاب الہی آگیا اور الضالین کہہ کر یہ دعا تعلیم کی کہ اس سے بھی محفوظ رکھ کہ تیری حمایت کے بدوں بھٹکتے پھریں۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 199-200) ہمیں اس بات سے بھی محفوظ رکھ کہ تیری حمایت ہمیں حاصل نہ ہو۔ہم تیری رحمانیت سے فائدہ نہ اٹھائیں اور اس کے نتیجہ میں پھر رحیمیت سے بھی فائدہ نہ اٹھانے والے ہوں اور تیری جو حمایت ہے، تیری مدد ہے، تیر ارحم اور فضل ہے اس سے ہم محروم ہو جائیں اور بھنکتے جائیں۔پس یہ ضالین کہہ کر اس طرف بھی توجہ دلادی۔پھر دنیا داروں کے اس خیال کو رد فرماتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور رونے دھونے سے کچھ فائدہ نہیں ملتا حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں کہ : " بعض لوگوں کا یہ خیال کہ اللہ تعالیٰ کے حضور رونے دھونے سے کچھ نہیں ملتا، بالکل غلط اور باطل ہے۔" جھوٹ ہے " ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی صفات قدرت و تصرف پر ایمان نہیں رکھتے۔اگر ان میں