خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 342 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 342

خطبات مسرور جلد 14 342 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جون 2016 خاک بھی سنائی نہ دے۔ایسا ہی قلب کا حال ہے۔وہ جو خشوع و خضوع کی حالت رکھی ہے اور سوچنے اور تفکر کی قوتیں رکھی ہیں اگر بیماری آجاوے تو وہ سب قریباً بیکار ہو جاتی ہیں۔مجنونوں کو دیکھو کہ ان کے قومی کیسے بیکار ہو جاتے ہیں۔تو کیا یہ ہم کو لازم نہیں کہ ان خداداد نعمتوں کی قدر کریں؟ اگر ان قوی کو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال فضل سے ہم کو عطا کیے ہیں بیکار چھوڑ دیں تو لاریب ہم کا فر نعمت ہیں تو پھر یقینا ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرنے والے ہیں۔ناشکرے ہیں" پس یادرکھو کہ اگر اپنی قوتوں اور طاقتوں کو معطل چھوڑ کر دعا کرتے ہیں تو دعا کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچاسکتی "جو اللہ تعالیٰ نے طاقتیں دی ہیں، قوتیں دی ہیں، صلاحیتیں دی ہیں اور اسباب کی طرف توجہ دینے کا حکم دیا ہے ان سب کو کام میں لاؤ اور پھر دعا کرو۔اگر اس کے بغیر ہے تو پھر دعا کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی " کیونکہ جب ہم نے پہلے عطیہ سے کچھ کام نہیں لیا تو دوسرے کو کب اپنے لیے مفید اور کار آمد بنا سکیں گے ؟" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 130-131) یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسباب پیدا کئے ہیں اور ان سے کام لینا، پھر دعا کرنا تب ہی ہمارے لئے مفید ہو سکتا ہے۔پھر اس بات کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے کہ قانون قدرت میں قبولیت دعا کی نظیریں موجود ہیں، مثالیں موجود ہیں آپ فرماتے ہیں کہ : " غرض یہ ہے کہ قانون قدرت میں قبولیت دعا کی نظیریں موجود ہیں اور ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ زندہ نمونے بھیجتا ہے۔اسی لئے اس نے اِهْدِنَا القِيرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا تعلیم فرمائی ہے۔یہ خد اتعالیٰ کا منشاء اور قانون ہے اور کوئی نہیں جو اس کو بدل سکے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا سے پایا جاتا ہے کہ ہمارے اعمال کو اکمل اور اتم کر " جو ہمارے اعمال ہیں ان کو مکمل کر اور جو ان کی انتہا ہو سکتی ہے وہاں لے جا" ان الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر تو اشارۃ النص کے طور پر اس سے دعا کرنے کا حکم معلوم ہوتا ہے۔" بظاہر یہی ہے کہ ایک کھلا اشارہ ہے کہ دعا کرو صراط مستقیم کی ہدایت مانگنے کی تعلیم ہے " اس طرف ہی اشارہ لگ رہا ہے کہ صراط مستقیم کی ہدایت اللہ تعالیٰ سے مانگو " لیکن اس کے سر پر ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ بتا رہا ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔یعنی صراط مستقیم کے منازل کے لئے قومی سلیم سے کام لے کر استعانت الہی کو مانگنا چاہئے۔"صراط مستقیم پر چلنے کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے قویٰ دیئے ہیں ان کو کام میں لاؤ اور اللہ تعالیٰ کی مددمانگو" پس ظاہری اسباب کی رعایت ضروری ہے۔جو اس کو چھوڑتا ہے وہ کافر نعمت ہے۔" (ملفوظات جلد اول صفحہ 199) پھر آپ نے فرمایا کہ : " بہت سی بیماریاں ایسی ہیں کہ اگر وہ زبان کو لگ جائیں تو وہ یکد فعہ ہی کام چھوڑ بیٹھتی۔زبان کے بارے میں پہلے بھی مثال دی ہے " یہ رحیمیت ہے۔ایسا ہی قلب میں خشوع و خضوع کی حالت