خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 341 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 341

خطبات مسرور جلد 14 341 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 جون 2016 میں دودھ جوش مار کر آجاتا ہے حالانکہ بچہ تو دعا کانام بھی نہیں جانتا۔لیکن یہ کیا سبب ہے کہ اس کی چیخیں دودھ کو جذب کر لیتی ہیں۔یہ ایک ایسا امر ہے کہ عموماً ہر ایک صاحب کو اس کا تجربہ ہے۔بعض اوقات ایسادیکھا گیا ہے کہ مائیں اپنی چھاتیوں میں دودھ کو محسوس بھی نہیں کرتی ہیں اور بسا اوقات ہوتا بھی نہیں لیکن جو نہی بچہ کی درد ناک چیخ کان میں پہنچی فوراُدودھ اتر آیا ہے۔جیسے بچے کی ان چیخوں کو دودھ کے جذب اور کشش کے ساتھ ایک علاقہ ہے" ایک تعلق ہے " میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری چلاہٹ ایسی ہی اضطراری ہو تو وہ اس کے فضل اور رحمت کو جوش دلاتی ہے اور اس کو کھینچ لاتی ہے۔" (ملفوظات جلد اول صفحہ 198) پھر اس کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے کہ ماں بچے کی جو مثال آپ نے دی ہے یہ دعا کا فلسفہ ہے۔اس کے تحت مانگنا انسان کا خاصہ ہونا چاہئے اور جب یہ انسان کا خاصہ ہو تو پھر اللہ تعالیٰ اسے قبولیت کا بھی نظارہ دکھاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : مانگنا انسان کا خاصہ ہے اور استجابت اللہ تعالیٰ کا۔جو نہیں سمجھتا اور نہیں مانتا وہ جھوٹا ہے۔بچہ کی مثال جو میں نے بیان کی ہے وہ دعا کی فلاسفی خوب حل کر کے دکھاتی ہے۔رحمانیت اور رحیمیت دو نہیں ہیں۔پس جو ایک کو چھوڑ کر دوسری کو چاہتا ہے اسے مل نہیں سکتا۔"اگر رحیمیت کو لینے کے لئے رحمانیت کو چھوڑیں تو نہیں ہو سکتی "رحمانیت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ہم میں رحیمیت سے فیض اٹھانے کی سکت پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ کی جو رحیمیت ہے، اس سے مانگ کے لینے کی جو طاقتیں ہیں وہ طاقت رحمانیت اس میں پیدا کرتی ہے "جو ایسا نہیں کرتا وہ کا فر نعمت ہے " اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکاری ہے " إِيَّاكَ نَعْبُدُ کے یہی معنی ہیں کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں ان ظاہری سامانوں اور اسباب کی رعایت سے جو تو نے عطا کیے ہیں "ہم عبادت کرتے ہیں اور ظاہری اسباب میں سے ایک سبب دعا کا ہے۔دوسرے ان چیزوں کو حرکت میں لانے کا جو ہمارے لئے اس کام کے لئے مقرر کی گئی ہیں "دیکھو یہ زبان جو عروق اور اعصاب سے خلق کی ہے " اس میں زبان ہے اس کے اعصاب بنائے گئے ہیں۔اس میں لعاب ہے جو اس کے اندر ہے " اگر ایسی نہ ہوتی تو ہم بول نہ سکتے " زبان خشک ہو جائے تو انسان بول نہیں سکتا۔زبان کا کوئی پٹھ کھیچ جائے تو وہیں جم جاتی ہے فرمایا کہ " ایسی زبان دعا کے واسطے عطا کی جو قلب کے خیالات تک کو ظاہر کر سکے "زبان عطا کی تاکہ دل کے خیالات ظاہر ہوں۔اس سے انسان بول سکے "اگر ہم دعا کا کام زبان سے کبھی نہ لیں تو یہ ہماری شور بختی ہے شور بختی، مطلب بد قسمتی ہے "بہت سی بیماریاں ایسی ہیں کہ اگر وہ زبان کو لگ جاویں تو یکد فعہ ہی زبان اپنا کام چھوڑ بیٹھتی ہے یہاں تک کہ انسان گونگا ہو جاتا ہے۔پس یہ کیسی رحیمیت ہے کہ ہم کو زبان دے رکھی ہے۔ایسا ہی کانوں کی بناوٹ میں فرق آجاوے تو