خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 340
خطبات مسرور جلد 14 340 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جون 2016 دوسرے اسباب کو پیدا کر دیتا ہے " دعا کے ذریعہ سے۔دعا بذات خود ایک سبب ہے ایک وجہ بنتی ہے اور یہ وجہ جب دعا قبول ہوتی ہے تو اس کام کے کرنے کے لئے دوسرے سبب پیدا ہو جاتے ہیں۔کسی انسان کو قرض کی ضرورت ہے، پیسوں کی ضرورت ہے، کسی کی مدد کی ضرورت ہے تو اللہ تعالی کسی ذریعہ سے اس کو وہ مہیا کر وادیتا ہے، اس کے لئے آسانیاں پید ا کر وا دیتا ہے۔آسمان سے کوئی چیز نہیں ٹپکتی۔اگر کسی کو پیسوں کی ضرورت ہے تو آسمان سے نہیں اتریں گے بلکہ کوئی ذریعہ بنے گا اور وہی سبب ہے جو دعا کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے بنایا فرمایا " اور ايَّاكَ نَعْبُدُ کا تقدم إيَّاكَ نَسْتَعِين پر جو کلمہ دعائیہ ہے اس امر کی خاص تشریح کر رہا ہے۔" پہلے ايَّاكَ نَعْبُدُ کہا اور پھر تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔دعا کرتے ہیں۔ساتھ مددمانگتے ہیں اور دعا کے ساتھ ہی مدد جو اسباب کی طرف توجہ ہے وہ بھی ہو جاتی ہے " غرض عادت اللہ ہم یونہی دیکھ رہے ہیں کہ وہ خلق اسباب کر دیتا ہے۔دیکھو پیاس کے بجھانے کے لئے پانی اور بھوک مٹانے کے لئے کھانا مہیا کرتا ہے مگر اسباب کے ذریعہ۔" کوئی ذریعہ بناتا ہے " پس یہ سلسلہ اسباب یو نہی چلتا ہے اور خلق اسباب ضرور ہو تا ہے " سبب پیدا ہوتے ہیں " کیونکہ خدائے تعالیٰ کے یہ دو نام ہی ہیں حانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا۔(النساء: 159) عزیز تو یہ ہے کہ ہر ایک کام کر دینا غالب ہے ، طاقت رکھتا ہے ، ہر کام کر سکتا ہے، کر دیتا ہے " اور حکیم یہ کہ ہر ایک کام کسی حکمت سے موقع اور محل کے مناسب اور موزوں کر دینا۔" دیکھو نباتات جمادات میں قسم قسم کے خواص رکھے ہیں۔تربدہی کو دیکھو کہ وہ ایک دو تولہ تک دست لے آتی ہے۔ایسا ہی سقمونیا۔اللہ تعالیٰ اس بات پر تو قادر ہے کہ یونہی دست آجائے یا پیاس بدوں پانی ہی کے بجھ جائے " بغیر پانی کے پیاس بجھ جائے " مگر چونکہ عجائبات قدرت کا علم کرانا بھی ضروری تھا کیونکہ جس قدر واقفیت اور علم عجائبات قدرت کا وسیع ہوتا جاتا ہے اسی قدر انسان اللہ تعالیٰ کی صفات پر اطلاع پاکر قرب حاصل کرنے کے قابل ہوتا جاتا ہے۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 124-125) یہ اللہ تعالیٰ نے چیزیں پیدا کی ہیں ان کی صفات اور ان کی خاصیات کا علم دلوانا بھی تو اللہ تعالیٰ کے لئے ضروری ہے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ چیزیں ہیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں ان کا علم جب بڑھتا ہے تو جتنا جتنا علم وسیع ہوتا ہے اسی قدر اللہ تعالیٰ کی صفات پر اطلاع ہوتی ہے۔انسان کو اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس قابل ہو جاتا ہے کہ انسان اس کا فہم حاصل کرے اور یہی ایک دیندار شخص کا کام ہے۔ایک دہر یہ اپنے علم کو بہت کچھ سمجھتا ہے لیکن ایک مومن اس علم کے اضافے سے اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی قدرتوں کو جاننے والا بنتا ہے۔پھر دعا کی فلاسفی کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ اس طرح بیان فرمایا کہ : " دیکھو ایک بچہ بھوک سے بیتاب اور بیقرار ہو کر دودھ کے لئے چلاتا ہے اور چیختا ہے تو ماں کے پستان