خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 339
خطبات مسرور جلد 14 339 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جون 2016 کر دیتا ہے " انسان تو اپنا انجام نہیں دیکھتا لیکن اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کا ایک حقیقی خیر خواہ ہے اس کی بھلائی چاہتا ہے۔اس کو انجام کی بھی خبر ہے۔انجام اس کو نظر آرہا ہے کہ کیا ہونا ہے تو وہ اس کے جو نقائص ہیں، جو نقصانات پہنچ سکتے ہیں، جو بد نتائج ہو سکتے ہیں ان کو سامنے رکھتے ہوئے دعا کو رد کر دیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی خیر خواہی اسی میں سمجھتا ہے کہ اس کی یہ دعا رڈ کر دے اور فرمایا کہ " یہ ردّدعا ہی اس کے لئے قبول دعا ہو تا ہے۔"جب ایسی دعا اللہ تعالیٰ کے ہاں رڈ کر دی جاتی ہے، قبول نہیں ہوتی تو یہی اللہ تعالیٰ کی قبولیت کی گواہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سمجھا کہ اس انسان کے لئے یہ بہتر نہیں۔اس بندے کے لئے یہ بہتر نہیں " پس ایسی دعائیں جن میں انسان حوادث اور صدمات سے محفوظ رہتا ہے اللہ تعالیٰ قبول کر لیتا ہے مگر مضر دعاؤں کو بصورت رڈ قبول فرما لیتا ہے۔" بعض جن میں فائدہ ہے وہ اسی طرح قبول کرتا ہے۔جن میں انسان کا نقصان ہو تا ہے ان کو ر ڈ کر دیتا ہے۔قبول نہیں فرماتا ہے اور یہی اس کی قبولیت ہے آپ فرماتے ہیں کہ " مجھے یہ الہام بارہا ہو چکا ہے۔اُجِيْبُ كُلّ دُعَائِكَ۔دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ ہر ایک ایسی دعا جو نفس الامر میں نافع اور مفید ہے قبول کی جائے گی۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 106-107) جو مانگنے کے لحاظ سے نافع ہے، نفع دینے والی ہے اور مفید ہے وہ قبول کی جائے گی۔ہر دعا نہیں قبول ہو گی۔پس اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء اور نبیوں کی بھی بعض دعائیں سنتا ہے بعض نہیں سنتا اور اس لئے نہیں سنتا کہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ فائدہ مند نہیں ہیں یا ان کے نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ غیب کا علم رکھنے والا ہے اور وہ بہتر جانتا ہے۔پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ دعا کے لئے اپنے اعمال اور اعتقاد کو بھی دیکھنا ضروری ہے آپ فرماتے ہیں کہ : یہ سچی بات ہے کہ جو شخص اعمال سے کام نہیں لیتا وہ دعا نہیں کرتا" صرف دعا ضروری نہیں۔اعمال بھی ضروری ہیں بلکہ خد اتعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔"اگر اعمال نہیں اور صرف دعا ہے تو وہ دعا نہیں۔اللہ تعالیٰ کی تم آزمائش کر رہے ہو " اس لیے دعا کرنے سے پہلے اپنی تمام طاقتوں کو خرچ کرناضروری ہے اور یہی معنی اس دعا کے ہیں۔پہلے لازم ہے کہ انسان اپنے اعتقاد اعمال میں نظر کرے کیونکہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ اصلاح اسباب کے پیرایہ میں ہوتی ہے۔" اصلاح ہوتی ہے اس کے لئے بعض سبب موجود ہونے چاہئیں "وہ کوئی نہ کوئی ایسا سبب پیدا کر دیتا ہے کہ جو اصلاح کا موجب ہو جاتا ہے۔وہ لوگ اس مقام پر ذرا خاص غور کریں جو کہتے ہیں کہ جب دعا ہوئی تو اسباب کی کیا ضرورت ہے۔" دعا ہو گئی اس لئے اسباب کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہ نادان سوچیں کہ دعا بجائے خود ایک مخفی سبب ہے دعا بھی تو کسی کام کے کرنے کے لئے ایک چھپا ہو اسبب ہے اس کام کے کرنے کی وجہ بنتا ہے "جو