خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 338
خطبات مسرور جلد 14 338 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 جون 2016 مضمون اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چند حوالے بھی پیش کروں گا جس سے ہم اس م کی گہرائی کو سمجھتے ہوئے، رمضان میں اسے قرب الہی کا ذریعہ بناتے ہوئے اپنا علم و معرفت بھی بڑھا سکتے ہیں اور حقیقی ہدایت پانے والوں میں بھی شامل ہو سکتے ہیں اور رمضان کا حقیقی فیض بھی پاسکتے ہیں۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جو بھی انہوں نے دعائیں کی ہیں وہ ضرور قبول ہونی چاہئیں۔اس بارے میں تھوڑی سی وضاحت تو میں نے پہلے کر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قبولیت کے لئے بعض شرائط رکھی ہیں جنہیں پورا کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔اس بات کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے کہ قبولیت کے کیا اصول ہیں اور بعض دفعہ سب شرائط پوری کرنے والوں کی بھی دعا اس طرح قبول نہیں ہوتی جس طرح وہ دعامانگتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : "دعا کا اصول یہی ہے اللہ تعالیٰ قبول دعا میں ہمارے اندیشہ اور خواہش کے تابع نہیں ہو تا۔دیکھو بچے کس قدر اپنی ماؤں کو پیارے ہوتے ہیں اور وہ چاہتی ہے کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے۔لیکن اگر بچے بیہودہ طور پر اصرار کریں اور رو کر تیز چاقو یا آگ کا روشن اور چمکتا ہوا انگارہ مانگیں تو کیا ماں باوجود سچی محبت اور حقیقی دل سوزی کے کبھی گوارا کرے گی کہ اس کا بچہ آگ کا انگارہ لے کر ہاتھ جلالے یا چاقو کی تیز دھار پر ہاتھ مار کر ہاتھ کاٹ لے ہر گز نہیں۔اسی اصول سے اجابت دعا کا اصول سمجھ سکتے ہیں۔" فرمایا کہ "میں خود اس امر میں ایک تجربہ رکھتا ہوں کہ جب دعا میں کوئی جزو مضر ہوتا ہے تو وہ دعا ہر گز قبول نہیں ہوتی۔یہ بات خوب سمجھ میں آسکتی ہے کہ ہمارا علم یقینی اور صحیح نہیں ہوتا۔بہت سے کام ہم نہایت خوشی سے مبارک سمجھ کر کرتے ہیں اور اپنے خیال میں ان کا نتیجہ بہت ہی مبارک خیال کرتے ہیں۔مگر انجام کار وہ ایک غم اور مصیبت ہو کر چمٹ جاتا ہے۔غرض یہ کہ خواہشات انسانی سب پر صاد نہیں کر سکتے کہ سب صحیح ہیں۔"ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ یہ صحیح ہیں " چونکہ انسان سہو اور نسیان سے مرکب ہے " بھول چوک انسان سے ہوتی ہے، فطرت میں ہے " اس لئے ہونا چاہئے اور ہوتا ہے کہ بعض خواہش مضر ہوتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اس کو منظور کر لے تو یہ امر منصب رحمت کے صریح خلاف ہے۔" پس انسان تو سمجھتا ہے کہ اس کو ہونا چاہئے لیکن خواہش بعض دفعہ انسان کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ اسے منظور کرلے تو پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا جو مقام ہے اس کے یہ بات خلاف ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ تو دعا کرنے والے کے لئے ، اپنے بندے کے لئے رحمت چاہتا ہے۔اگر ہر خواہش اس کی پوری کر لے چاہے اس سے اس کا نقصان ہو رہا ہو تو اس کا جو مقام رحمت ہے وہ بات پھر اس کے خلاف چلی جاتی ہے۔فرمایا کہ " یہ ایک سچا اور یقینی امر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کو قبولیت کا شرف بخشتا ہے مگر ہر رطب و یابس کو نہیں کیونکہ جوش نفس کی وجہ سے انسان انجام اور مال کو نہیں دیکھتا اور دعا کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ جو حقیقی بہی خواہ اور قال بین ہے ان مضرتوں اور بد نتائج کو ملحوظ رکھ کر جو اس دعا کے تحت میں بصورت قبول داعی کو پہنچ سکتے ہیں اسے رڈ