خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 337
خطبات مسرور جلد 14 337 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 جون 2016 لیکن کن کے قریب آتا ہے ؟ ان کے جو اللہ تعالیٰ کے قرب کو محسوس کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی بات مانتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم فَلْيَسْتَجِيبُوا لِی پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے احکامات کا پتا لگاتے ہیں اور ان پر عمل کرنے کے لئے لبیک کہتے ہیں۔اس بات پر یقین اور ایمان رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سب طاقتوں والا ہے۔اگر میں اس کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اس کے لئے خالص ہوتے ہوئے اس سے مانگوں گا تو وہ میری دعائیں سنے گا۔پس اللہ تعالیٰ بیشک اپنے بندوں کے سوال کے جواب میں یہ کہتا ہے کہ میں قریب ہوں، میں اپنے بندے کی دعاؤں کو سنتا ہوں اور اس مہینہ میں خاص طور پر تمہارے قریب آگیا ہوں مجھے پکارو لیکن اپنی دعاؤں کی قبولیت کے لئے مجھے پکارنے سے پہلے یہ شرط ہے کہ میری سنو۔میرے احکامات پر عمل کرو۔اور میری تمام طاقتوں پر کامل یقین اور ایمان رکھو۔ان شرائط پر تمہیں عمل کرنا ہو گا۔پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم دعا کرتے ہیں دعائیں قبول نہیں ہو تیں وہ اپنے جائزے بھی لیتے ہیں؟ کہ انہوں نے کہاں تک خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کیا ہے ؟ اگر ہمارے عمل نہیں۔ہمارا ایمان صرف رسمی ہے تو پھر ہمارا یہ کہنا غلط ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کو پکار الیکن ہماری دعائیں قبول نہیں ہوئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ خدا تعالیٰ نے کیا شرائط رکھی ہیں: فرمایا کہ پہلی بات اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ لوگ ایسی حالت تقویٰ اور خدا ترسی کی پیدا کریں کہ میں ان کی آواز سنوں۔" (ایاما م الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 261) تقویٰ پیدا ہو۔خدا سے ڈریں۔خدا کا خوف ہو تو پھر اللہ تعالیٰ آواز سنتا ہے۔دوسری بات کہ مجھ پر ایمان لائیں۔کیسا ایمان ؟ اس بات پر ایمان کہ خدا موجود ہے اور تمام طاقتیں اور قدر تیں رکھتا ہے۔خدا کے وجو د اور اس کے تمام طاقتیں اور قدر تیں رکھنے کا تجربہ چاہے انسان کو ہوا ہے یا نہیں ہوا یا خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی تمام طاقتوں کے مالک ہونے کی معرفت عطا ہوئی ہے یا نہیں ہوئی۔اگر نہیں بھی ہوئی تب بھی ایسا ایمان ہو کہ خدا تعالیٰ ہے اور سب طاقتوں کا مالک ہے۔گویا ایمان بالغیب ہو۔اگر پہلے یہ ہو گا تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا عرفان بھی ملے گا جس سے خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کے تمام طاقتوں کے مالک ہونے ، اس کا دعاؤں کا جواب دینے کا تجربہ بھی ہو جائے گا۔پہلے انسان کو اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہو گا پھر اللہ تعالیٰ قدم بڑھاتا ہے اور پھر ثبوت بھی مہیا ہو جائے گا۔دعاؤں کی قبولیت کی شرائط ، اس کے اصول، اس کا فلسفہ وغیرہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی تفصیل سے مختلف مواقع پر روشنی ڈالی ہے۔