خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 11

خطبات مسرور جلد 14 11 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 کرنے والے لوگ جو ہیں وہی پھر اس سڑک پر چلتے ہیں جو ہدایت کی طرف لے جانے والی ہے۔" اور جس سے آدمی فلاح تک پہنچتا ہے۔پس یہی لوگ فلاح یاب ہیں جو منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے اور راہ کے خطرات سے نجات پا چکے ہیں۔اس لئے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے ہم کو تقویٰ کی تعلیم دے کر ایک ایسی کتاب ہم کو عطا کی جس میں تقویٰ کے وصایا بھی دیئے۔" یہ سارا بیان کرنے کے بعد آپ فرماتے ہیں "سو ہماری جماعت یہ غم گل دنیوی غموں سے بڑھ کر اپنی جان پر لگائے کہ ان میں تقویٰ ہے یا نہیں۔" پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 35) اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں فلاح دارین حاصل ہو اور لوگوں کے دلوں پر فتح پاؤ توپاکیزگی اختیار کرو۔عقل سے کام لو اور کلام الہی کی ہدایات پر چلو۔خود اپنے تئیں سنوارو اور دوسروں کو اپنے اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھاؤ۔تب البتہ کامیاب ہو جاؤ گے"۔ایک فارسی شعر کا مصرعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے کہ: سخن کز دل برون آید نشیند لاجرم بر دل" کہ جو بھی بات دل سے نکلتی ہے وہ دل پر ضرور بیٹھتی اور اثر کرتی ہے۔پس ایک مومن کی ہر بات دل سے نکلنی چاہئے اور دوسروں کے لئے بھی فلاح کا موجب ہونی چاہئے اور یہی پھر اپنی فلاح کا بھی باعث بنتی ہے۔فرمایا " پس پہلے دل پیدا کرو۔اگر دلوں پر اثر اندازی چاہتے ہو تو عملی طاقت پیدا کر و۔اگر دوسروں کے دلوں پر اثر کرنا ہے تو پہلے اپنے اندر عملی طاقت پیدا کرو۔اپنے دل کو پہلے اس قابل بناؤ کہ ساری نیکیاں اس میں قائم ہو جائیں اور پھر ان پر عمل بھی کرو۔فرمایا "کیونکہ عمل کے بغیر قولی طاقت اور انسانی قوت کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔زبان سے قیل و قال کرنے والے تو لاکھوں ہیں۔بہت سے مولوی اور علماء کہلا کر منبروں پر چڑھ کر اپنے تئیں نائب الرسول اور وارث الانبیاء قرار دے کر وعظ کرتے پھرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ تکبر، غرور، بدکاریوں سے بچو مگر جو اُن کے اپنے اعمال ہیں اور جو کر تو تیں وہ خود کرتے ہیں ان کا اندازہ اس سے کر لو کہ ان باتوں کا اثر تمہارے دل پر کہاں تک ہو تا ہے۔" کہنے سے پہلے خود عمل کرو (ملفوظات جلد 1 صفحہ 67) پھر اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ کہنے سے پہلے خود عمل کرو۔آپ فرماتے ہیں کہ : " اگر اس قسم کے لوگ عملی طاقت بھی رکھتے اور اور کہنے سے پہلے خود کرتے تو قرآن شریف میں لیم تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف:3)۔کہنے کی کیا ضرورت پڑتی ؟ یہ آیت ہی بتلاتی ہے کہ دنیا میں کہہ کر خود نہ کرنے والے بھی موجود تھے اور ہیں اور ہوں گے۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 67)