خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 334 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 334

خطبات مسرور جلد 14 334 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10جون 2016 کی تھی اور شہید مرحوم 15 مئی 1953ء کو لویری والا ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔پھر ایف اے تک تعلیم وہیں انہوں نے حاصل کی۔پھر سنجوال فیکٹری اٹک میں ملازمت اختیار کی۔دوران ملازمت شہید نے گریجوایشن مکمل کیا اور ساتھ ساتھ DHMS کا کورس بھی کیا۔ہو میو پیتھی کی پریکٹس بھی کرتے تھے۔26 سال سروس کرنے کے بعد شہید مرحوم نے ریٹائر منٹ لے لی اور پھر اٹک شہر میں ہو میو پیتھک کلینک کھولا۔مرحوم کی شادی 1982ء میں محترمہ امۃ الکریم صاحبہ بنت مکرم بشیر احمد صاحب سے ہوئی تھی جو ربوہ کے تھے۔ان کی دوکان ربوہ کلا تھ سٹور کے نام سے مشہور تھی۔ان کی بھی وفات چار سال قبل ہو گئی تھی۔بیمار تھیں۔مرحومہ گورنمنٹ کالج اٹک میں بطور لیکچرر کام کر رہی تھیں۔شہید مرحوم بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔دعوۃ الی اللہ ، مہمان نوازی، ہمدردی، غریبوں کی مدد، عہدیداران کی اطاعت بڑے نمایاں وصف تھے۔بڑے فعال داعی الی اللہ تھے۔لازمی چندہ جات کی ادائیگی اور دیگر تمام مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔سنجوال فیکٹری میں ملازمت کے دوران اپنے ایک ساتھی کی بیعت کروائی جس کے بعد اس شخص کی ساری فیملی بھی جماعت میں شامل ہو گئی۔اس طرح ایک خاندان کے نو افراد نے بیعت کی جس پر فیکٹری میں ان کی مخالفت بھی شروع ہو گئی۔شہید مرحوم گورنمنٹ کی طرف سے الاٹ شدہ کو ارٹر میں رہتے تھے۔مخالفین نے ان کے گھر پر پتھر اؤ پر بھی کیا۔آخر کار فیکٹری کی انتظامیہ نے حمید صاحب اور ان کے ساتھی نو مبائع کا سنجوال فیکٹری سے واہ فیکٹری ضلع راولپنڈی تبادلہ کر دیا۔شہید مرحوم کو کچھ عرصہ سے مخالفت کا سامنا تھا۔جنوری 2015ء میں ایک شر پسند نے مسجد اٹک اور ان کے کلینک کو آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔بہر حال چوکیدار کے بر وقت آجانے پر وہ شخص بھاگ گیا۔اس واقعہ کے دوروز بعد اس شر پسند نے دوبارہ ان کے کلینک کو آگ لگانے کی کوشش کی اور موقع پر پکڑا گیا۔بعد میں پولیس کے حوالہ کر دیا گیا۔ان کے بیٹے نوید احمد صاحب یہاں ہیں۔وہ والد کے جنازے پہ جا نہیں سکے۔کہتے ہیں کہ میرے والد خلافت کی اطاعت کرنے والے انسان تھے۔بڑے دلیر انسان تھے۔دعوت الی اللہ کرنے والے تھے۔پنجوقتہ نمازوں کو خود بھی پڑھتے تھے اور ہمیں بھی تلقین کرتے تھے۔قرآن کریم کی تلاوت روزانہ کرتے اور اس کی تلقین کرتے۔یہاں بھی کئی دفعہ جلسہ پر آچکے تھے اور ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ مسجد فضل میں آ کے اپنی نمازیں باجماعت ادا کریں۔ان کی چھوٹی بیٹی سلمہ نزہت کہتی ہیں کہ والد صاحب دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے تھے اور ہر تحریک پر لبیک کہتے تھے۔شہادت سے تقریباً ہفتہ پہلے یہی کہتے تھے کہ بیٹی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے اور پھر ساتھ ہی نیکیوں کی تلقین بھی کیا کرتے تھے۔اور ان کی ایک بیٹی فصاحت حمید صاحبہ ہیں وہ کہتی ہیں ایک خوبی یہ تھی کہ جمعہ کا خطبہ جو یہاں سے لائیو سنا جاتا تھا اس کی ریکارڈنگ کر کے ، آڈیو ریکارڈنگ کر کے