خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 333
خطبات مسرور جلد 14 333 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جون 2016 لئے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار نہ کیا تو کیا ہو گا؟ یہ ستیاں پھر بڑے گناہ بن جاتے ہیں۔فرمایا " صغائر وہی داغ چھوٹا ہے جو بڑھ کر آخر کار گل منہ کو سیاہ کر دیتا ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 10) چھوٹے گناہ ہی ہیں جو بڑے گناہ بنتے ہیں اور پھر انسان کو سیاہ کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کے اس خاص ماحول میں اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے وہ افراد بنیں جو ہر قسم کی برائیوں سے بچنے والے اور خد اتعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے اپنے ہر عمل کو ڈھالنے والے ہوں اور اس مہینے سے ایسے پاک ہو کر نکلیں اور نیکیوں پر ایسے قائم ہوں کہ ہماری چھوڑی ہوئی برائیاں یا چھوٹی ہوئی برائیاں پھر دوبارہ کبھی عود کر کے نہ آئیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔نماز کے بعد میں دو جنازے بھی پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ حاضر ہے جو مکرمہ طاہرہ حمید صاحبہ اہلیہ مکرم عبد الحمید صاحب مرحوم کاونٹری یو کے کا ہے۔8 جون کو ایک لمبی علالت کے بعد 60 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔إِنَّالِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کا تعلق جہلم پاکستان سے تھا۔2001ء میں یو کے آئیں۔نیک خاتون تھیں۔نمازوں کی پابند، خلافت سے عقیدت کا تعلق تھا۔بچوں کی بھی صحیح رنگ میں تربیت کی۔جماعت سے وابستہ رکھا۔اور خاص طور پر نمازوں کا خیال رکھنے والی تھیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے موصیہ بھی تھیں۔ان کے لواحقین میں ان کی والدہ کے علاوہ ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور لواحقین کو بھی صبر عطا فرمائے۔دوسر اجنازہ غائب ہے جو مکرم حمید احمد صاحب شہید ابن مکرم شریف احمد صاحب ضلع اٹک کا ہے۔مکرم حمید احمد صاحب ابن مکرم شریف احمد صاحب کی عمر 63 سال تھی۔اٹک میں رہتے تھے۔ان کو مخالفین احمدیت نے 4 جون کو دو پہر اڑ ہائی بجے ان کے گھر کے باہر فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔انَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔تفصیلات کے مطابق 4 جون کو مکرم حمید صاحب نماز ظہر ادا کرنے کے بعد مسجد سے گھر واپس آئے اور گھر کے گیٹ پر آکر موٹر سائیکل کا ہارن بجایا۔ان کی بیٹی گھر کا دروازہ، باہر کا گیٹ کھولنے کے لئے آرہی تھیں کہ اس دوران نامعلوم حملہ آور آئے اور حمید صاحب پر انتہائی قریب سے فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔حمید صاحب کو ایک گولی لگی جو چہرے کے دائیں جانب سے لگی اور سر کے پیچھے سے باہر نکل گئی۔گولی لگنے کے نتیجہ میں حمید صاحب موقع پر ہی شہید ہو گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے دادا مکرم میاں محمد علی صاحب آف لویری والا ضلع گوجر انوالہ کے ذریعہ سے ہو ا تھا جنہوں نے 1923ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دست مبارک پر بیعت