خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 332
خطبات مسرور جلد 14 332 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جون 2016 چاہے جتنی مرضی ہم نیک باتیں کرتے رہیں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس کی کوئی قیمت نہیں بلکہ خدا کا غضب مشتعل ہو گا۔" اللہ تعالیٰ سب کو اس سے بچائے۔فرمایا ' پس میری جماعت سمجھ لے کہ وہ میرے پاس آئے ہیں اسی لئے کہ تخم ریزی کی جاوے جس سے وہ پھلدار درخت ہو جاوے۔پس ہر ایک اپنے اندر غور کرے کہ اس کا اندرونہ کیسا ہے اور اس کی باطنی حالت کیسی ہے۔اگر ہماری جماعت بھی خدانخواستہ ایسی ہے کہ اس کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ہے تو پھر خاتمہ بالخیر نہ ہو گا۔اللہ تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ ایک جماعت جو دل سے خالی ہے اور زبانی دعوے کرتی ہے وہ غنی ہے وہ پر واہ نہیں کرتا۔فرمایا کہ "بدر کی فتح کی پیشگوئی ہو چکی تھی۔" جنگ بدر میں " ہر طرح فتح کی امید تھی " اب وہ پیشگوئی تھی اللہ تعالیٰ نے کہا تھا فتح دوں گا لیکن پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رو رو کر دعا مانگتے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ جب ہر طرح فتح کا وعدہ ہے تو پھر ضرورت الحاح کیا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات غنی ہے۔یعنی ممکن ہے کہ وعدہ الہی میں کوئی مخفی شرائط ہوں۔" (ملفوظات جلد اول صفحہ 11) پس یہ ہمارے لئے بھی بڑے خوف کا مقام ہے۔بیشک حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی اللہ تعالیٰ نے ترقی کے وعدے کئے ہیں، کامیابی کے وعدے کئے ہیں، غلبے کے وعدے کئے ہیں لیکن ہمیں اس کا حصہ بننے کے لئے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ "ہماری جماعت کے لئے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے۔خصوصاً اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے سلسلہ بیعت میں ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے تاوہ لوگ جو خواہ کسی قسم کے بعضوں کینوں یا شرکوں میں مبتلا تھے یا کیسے ہی روبہ دنیا تھے ان تمام آفات سے نجات پاویں۔پرانی بیماریاں تھیں لیکن اب ایسے شخص سے منسوب ہو گئے ہیں جس کا ماموریت کا دعویٰ ہے۔اب جب اس کی طرف منسوب ہو گئے تو اس لئے منسوب ہوئے تاکہ ان چیزوں سے اور مصیبتوں سے نجات پائیں۔آپ فرماتے ہیں " آپ جانتے ہیں کہ اگر کوئی بیمار ہو جاوے خواہ اس کی بیماری چھوٹی ہو یا بڑی اگر اس بیماری کے لئے دوانہ کی جاوے اور علاج کے لئے دکھ نہ اٹھایا جاوے بیمار اچھا نہیں ہو سکتا۔ایک سیاہ داغ منہ پر نکل کر ایک بڑا فکر پیدا کر دیتا ہے کہ کہیں یہ داغ بڑھتا بڑھتا گل منہ کو کالانہ کر دے۔اسی طرح معصیت کا بھی ایک " داغ ہے۔گناہ کا بھی ایک داغ ہے۔اپنی کمزوری اور گناہ کا ایک "سیاہ داغ دل پر ہوتا ہے۔" فرمایا کہ "صغائر سہل انگاری سے کبائر ہو جاتے ہیں۔اگر چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہیں، گناہ ہیں۔انسان سمجھتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔کوئی پرواہ نہیں کی، ستی دکھائی۔ان کو ٹھیک کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکموں پر پوری طرح عمل نہ کیا اور ان سے بچنے کے