خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 331
خطبات مسرور جلد 14 331 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جون 2016 اور ان کو استعمال کرنے سے ہی انسان کی نشو و نما ہوتی ہے آپ فرماتے ہیں کہ " اللہ تعالیٰ نے جس قدر قویٰ عطا فرمائے ہیں وہ ضائع کرنے کے لئے نہیں دیئے گئے۔ان کی تعدیل اور جائز استعمال کرنا ہی ان کی نشوو نما ہے۔" ان کو انصاف سے استعمال کرنا اور جائز استعمال کرنا ہی ان کی نشوو نما ہے۔ان کو بڑھانا ہے۔ان سے فائدہ اٹھانا ہے۔ان کو صحیح رکھنا ہے تو ان کا جائز استعمال ضروری ہے۔فرمایا اسی لئے اسلام نے قوائے رجولیت یا آنکھ کے نکالنے کی تعلیم نہیں دی بلکہ ان کا جائز استعمال اور تزکیہ نفس کرایا جیسے فرما یا قد اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (المؤمنون: 2) - " فرمایا کہ " متقی کی زندگی کا نقشہ کھینچ کر آخر میں بطور نتیجہ یہ کہا کہ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقرة:6)۔یعنی وہ لوگ جو تقویٰ پر قدم مارتے ہیں ایمان بالغیب لاتے ہیں۔نماز ڈگمگاتی ہے پھر اُسے کھڑا کرتے ہیں۔خدا کے دیئے ہوئے سے دیتے ہیں۔" راتوں کو عبادتیں کر رہے ہیں۔نماز میں اگر خیالات آتے ہیں تو دوبارہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پھیرتے ہیں۔ان خیالات کو جھٹک دیتے ہیں۔یا کبھی نمازوں کی طرف توجہ نہیں رہتی کہ نمازیں وقت پر پڑھنی ہیں تو پھر اپنی اصلاح کرتے ہیں اور نمازیں وقت پر ادا کرنے کی طرف توجہ کرتے ہیں تو ایسے لوگ ہی پھر فلاح پانے والے ہوتے ہیں اور خدا کے دیئے ہوئے سے دیتے ہیں۔جو مال اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔فرمایا " باوجو د خطرات نفس بلا سوچے گزشتہ اور موجودہ کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور آخر کار وہ یقین تک پہنچ جاتے ہیں۔"جب ایمان بالغیب ہوتا ہے تو پھر یقین بھی ہو جاتا ہے۔ایسا ایمان ہو جاتا ہے جو یقین تک پہنچ جاتا ہے۔فرمایا یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت کے سر پر ہیں۔وہ ایک ایسی سڑک پر ہیں جو برابر آگے کو جارہی ہے اور جس سے آدمی فلاح تک پہنچتا ہے۔پس یہی لوگ فلاح یاب ہیں جو منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے اور راہ کے خطرات سے نجات پاچکے ہیں۔اس لئے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے ہم کو تقویٰ کی تعلیم دے کر ایک ایسی کتاب ہم کو عطا کی جس میں تقویٰ کے وصایا بھی دیئے۔" یعنی تقویٰ کے بارے میں ساری جو متعلقہ نصیحتیں تھیں وہ بھی دے دیں۔سو ہماری جماعت یہ غم گل دنیوی غموں سے بڑھ کر اپنی جان پر لگائے کہ ان میں تقویٰ ہے یا نہیں" (ملفوظات جلد اول صفحہ 35) پھر اللہ تعالیٰ کے خوف کے بارے میں آپ بتاتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ : اللہ کا خوف اسی میں ہے کہ انسان دیکھے کہ اس کا قول و فعل کہاں تک ایک دوسرے سے مطابقت رکھتا ہے۔" باتیں وہ کیا کر رہا ہے عمل کیا کر رہا ہے۔آپس میں مطابقت ہے ؟ ایک دوسرے سے ملتے ہیں یا مختلف ہیں ؟ پھر جب دیکھے کہ اس کا قول و فعل برابر نہیں تو سمجھ لے کہ وہ مورد غضب الہی ہو گا۔جو دل ناپاک ہے خواہ قول کتنا ہی پاک ہو وہ دل خدا کی نگاہ میں قیمت نہیں پاتا۔" اگر دل گندہ ہے۔اپنا عمل اس کے مطابق نہیں ہے پھر