خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 330
خطبات مسرور جلد 14 330 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جون 2016 آئے تو انہوں نے ایک کمبل پوش فقیر سادیکھا۔ایک نے ہنسی سے دریافت کیا کہ تیرے پاس کچھ ہے ؟ آپ ابھی اپنی والدہ سے تازہ نصیحت سن کر آئے تھے کہ جھوٹ نہ بولنا۔فی الفور جواب دیا کہ ہاں چالیس مہریں میری بغل کے نیچے ہیں جو میری والدہ صاحبہ نے کیسہ کی طرح سی دی ہیں۔"جیب کی طرح اندرسی دی ہیں۔" اس قزاق نے سمجھا کہ یہ ٹھٹھا کرتا ہے۔دوسرے قزاق نے جب پوچھا تو اس کو بھی یہی جواب دیا۔الغرض ہر ایک چور کو یہی جواب دیا۔وہ ان کو اپنے امیر قزاقاں کے پاس لے گئے کہ بار بار یہی کہتا ہے۔" کہ میرے پاس اتنی مہریں ہیں۔" امیر نے کہا اچھا اس کا کپڑا دیکھو تو سہی۔جب تلاشی لی گئی تو واقعی چالیس مہریں بر آمد ہوئیں۔وہ حیران ہوئے کہ یہ عجیب آدمی ہے۔ہم نے ایسا آدمی کبھی نہیں دیکھا۔امیر نے آپ سے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ تو نے اس طرح پر اپنے مال کا پتہ بتادیا؟ آپ نے فرمایا کہ میں خدا کے دین کی تلاش میں جاتا ہوں۔روانگی پر والدہ صاحبہ نے نصیحت فرمائی تھی کہ جھوٹ کبھی نہ بولنا۔یہ پہلا امتحان تھا۔میں جھوٹ کیوں بولتا۔یہ سن کر " امیر جو تھاڈا کو ؤں کا امیر قزاقاں رو پڑا اور کہا کہ آہ ! میں نے ایک بار بھی خدا تعالیٰ کا حکم نہ مانا۔چوروں سے مخاطب ہو کر کہا کہ اس کلمہ اور اس شخص کی استقامت نے میر اتو کام تمام کر دیا ہے۔میں اب تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا اور توبہ کرتا ہوں۔اس کے کہنے کے ساتھ ہی باقی چوروں نے بھی تو بہ کر لی۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 79-80) پس یہ بات ہمیں بھی اپنے جائزے لینے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ہم نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس لئے مانا ہے کہ دین بگڑ گیا اور اسلام کی صحیح تعلیم پر کوئی نہیں چل رہا تھا۔اگر اسلام کی صحیح تعلیم پر ہم نے چلنا ہے تو مسیح موعود کو مانو۔ہم نے اس لئے مانا ہے۔اس کے بعد پھر کیا ہم نے اپنی برائیاں چھوڑ دی ہیں ؟ جھوٹ ایک ایسی برائی ہے جو بظاہر معمولی لگتی ہے لیکن بہت بڑی ہے اور اگر اس واقعہ کے معیار پر پر کھیں تو اکثر شاید اس برائی میں مبتلا ہوں۔پس بیعت اور تقویٰ کا یہ تقاضا ہے کہ ہم اس برائی سے بچیں اور یہاں باہر کے ممالک میں جو آرہے ہیں ان میں بہت سارے ایسے ہیں جو آئے بھی اس لئے ہیں کہ دین کی وجہ سے باہر نکلے ہیں۔اپنے ملک میں ان کو دین پر عمل کرنے کی اجازت نہیں تھی۔آزادی سے اپنے دین کے اظہار کی اجازت نہیں تھی۔تو ہمیں خاص طور پر مغربی ممالک میں رہنے والوں کو بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہئے کہ ہمارا ہلکا سا بھی کوئی فعل ایسانہ ہو جس سے یہ اظہار ہو تا ہو یا ہماری زبان سے کوئی ایسا لفظ نہ نکلے جس سے یہ اظہار ہوتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے یا اپنی اس غلط بیانی کرنے کی وجہ سے ہم غلط قسم کے فائدے اٹھا رہے ہیں۔پس تقویٰ کے معیار کو سامنے رکھتے ہوئے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔پھر اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ خد اتعالیٰ کے عطا کردہ قویٰ کو کس طرح انصاف سے استعمال کیا جائے