خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 329
خطبات مسرور جلد 14 329 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 جون 2016 بات جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو نیک بختی اور تقویٰ کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور سعادت کی راہیں اختیار کرنی چاہئیں تب ہی کچھ بنتا ہے۔اِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ خدا تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ خود وہ اپنی حالت کو تبدیل نہ کرے۔خواہ مخواہ کے ظن فاسد کرنے اور بات کو انتہا تک پہنچانا بالکل بیہودہ امر ہے۔سب سے ضروری بات یہ ہے کہ لوگوں کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، نمازیں پڑھیں، زکوۃ دیں، اتلاف حقوق اور بدکاریوں سے باز آئیں۔" دوسروں کے حق مارنے سے اور غلط کام کرنے سے، گندے کام کرنے سے، بدکاریاں کرنے سے باز آئیں۔فرمایا کہ " یہ امر بخوبی ثابت ہے کہ بعض وقت جب صرف ایک شخص ہی بدی کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ سارے گھر اور سارے شہر کی ہلاکت کا موجب ہو جاتی ہے۔پس بدیوں کو چھوڑ دو کہ وہ ہلاکت کا موجب ہیں۔اگر تمہارا ہمسایہ بد گمانی کرتا ہے تو اس کی بد گمانی رفع کرنے کی کوشش کرو اور اسے سمجھاؤ۔انسان کہاں تک غفلت کرتا جائے گا۔" فرمایا کہ "حدیث شریف میں آیا ہے کہ مصیبت کے وارد ہونے سے پہلے جو دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے کیونکہ خوف و خطر میں مبتلا ہونے کے وقت تو ہر شخص دعا اور رجوع الی اللہ کر سکتا ہے۔" فرمایا کہ " سعادت مندی یہی ہے کہ امن کے وقت دعا کی جائے۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 262 263) پس اس طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔پھر آپ بیان فرماتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ تقویٰ کا رعب دوسروں پر بھی پڑتا ہے اور خدا تعالیٰ متقیوں کو ضائع نہیں کرتا۔" فرمایا کہ " میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی رحمتہ اللہ علیہ جو بڑے اکابر میں سے ہوئے ہیں۔ان کا نفس بڑا مظہر تھا۔ایک بار انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ میر اول دنیا سے برداشتہ ہے۔میں چاہتا ہوں کہ کوئی پیشوا تلاش کروں جو مجھے سکینت اور اطمینان کی راہیں دکھلائے۔والدہ نے جب دیکھا کہ یہ اب ہمارے کام کا نہیں رہا تو ان کی بات کو مان لیا اور کہا کہ اچھا میں تجھے رخصت کرتی ہوں۔یہ کہ کر اندر گئی اور اتنی مہریں جو اس نے جمع کی ہوئی تھیں ، اٹھالائی اور کہا کہ ان مہروں سے حصہ شرعی کے موافق چالیس مہریں تیری ہیں اور چالیس تیرے بڑے بھائی کی۔اس لئے چالیس مہریں تجھے بحصہ رسدی دیتی ہوں۔یہ کہہ کر وہ چالیس مہریں ان کی بغل کے نیچے پیراہن میں سی دیں " قمیض کے اندر جو لباس پہنا ہوا تھا اس کے نیچے سی دیں " اور کہا کہ امن کی جگہ پہنچ کر نکال لینا اور عند الضرورت اپنے صرف میں لانا۔سید عبد القادر صاحب نے اپنی والدہ سے عرض کی کہ مجھے کوئی نصیحت فرماویں۔سفر پہ جارہا ہوں کوئی نصیحت فرما دیں۔" انہوں نے کہا کہ بیٹا جھوٹ کبھی نہ بولنا۔" یہ نصیحت ہے اور ہمیشہ یادرکھنا اس سے بڑی برکت ہو گی۔اتنا سن کر آپ رخصت ہوئے۔اتفاق ایسا ہوا کہ جس جنگل میں سے ہو کر آپ گزرے اس میں چند رہزن قزاق رہتے تھے جو مسافروں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔دور سے سید عبد القادر صاحب پر بھی اُن کی نظر پڑی۔قریب