خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 328 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 328

خطبات مسرور جلد 14 328 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جون 2016 ہی تضحیک کا موجب نہیں ہو تا بلکہ در پردہ اس کا اثر نفس اسلام تک پہنچتا ہے۔اسلام بد نام ہو رہا ہے۔اب آجکل چاہے ایک محدود گروپ ہی ہے بعض دہشتگر دیا غلط کام کرنے والے ہیں یہ کوئی نہیں کہتا کہ وہ چند آدمی ہیں یا چند گروپ ہیں، اسلام کو بدنام کیا جاتا ہے۔اسلام پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسلام کی ایسی تعلیم ہے۔تو کسی کی اسلام کی طرف منسوب ہونے والی کوئی بھی حرکت بہر حال مخالفین کو ، دشمنوں کو اسلام پر انگلی اٹھانے کا موقع دے گی۔فرمایا کہ " مجھے ایسی خبریں یا جیل خانوں کی رپورٹیں پڑھ کر سخت رنج ہوتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ اس قدر مسلمان بد عملیوں کی وجہ سے مورد عتاب ہوئے۔دل بیقرار ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ جو صراط مستقیم رکھتے ہیں اپنی بد اعتدالیوں سے صرف اپنے آپ کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ اسلام پر جنسی کراتے ہیں۔۔" فرمایا کہ "میری غرض اس سے یہ ہے کہ مسلمان لوگ مسلمان کہلا کر ان ممنوعات اور منہیات میں مبتلا ہوتے ہیں جو نہ صرف ان کو بلکہ اسلام کو مشکوک کر دیتے ہیں۔" فرمایا " پس اپنے چال چلن اور اطوار ایسے بنالو کہ کفار کو بھی تم پر (جو دراصل اسلام پر ہوتی ہے ) نکتہ چینی کرنے کا موقع نہ ملے۔" ( ملفوظات جلد اول صفحه 77-78) پھر تقویٰ کے اجزاء کے بارے میں مزید وضاحت فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا: " تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔" عجب ہے۔یعنی رعونت تکبر وغیرہ ہے۔خود پسندی ہے۔اپنی تعریفیں آپ کرنا۔اپنی پروجیکشن کرنا۔مال حرام ہے۔فرمایا تقویٰ جو ہے اس میں " عجب، خود پسندی، مال حرام سے پر ہیز اور بد اخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔"غرور اور تکبر خود پسندی مال حرام کھانے سے بچنا اور بد اخلاقی سے بچنا یہ سب تقویٰ ہے۔"جو شخص اچھے اخلاق ظاہر کرتا ہے اس کے دشمن بھی دوست ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ اَحْسَن (المؤمنون: 97)۔اب خیال کرو کہ یہ ہدایت کیا تعلیم دیتی ہے ؟ اس ہدایت میں اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ اگر مخالف گالی بھی دے تو اس کا جواب گالی سے نہ دیا جائے بلکہ اس پر صبر کیا جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مخالف تمہاری فضیلت کا قائل ہو کر خود ہی نادم اور شرمندہ ہو گا اور یہ سزا اس سزا سے بہت بڑھ کر ہو گی جو انتقامی طور پر تم اس کو دے سکتے ہو۔فرمایا یوں تو ایک ذرا سا آدمی اقدام قتل تک نوبت پہنچا سکتا ہے لیکن انسانیت کا تقاضا اور تقویٰ کا منشاء یہ نہیں ہے۔خوش اخلاقی ایک ایسا جو ہر ہے کہ موذی سے انسان پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے کہ لطف کن لطف که بیگانه شود حلقه بگوش" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 81) کہ مہربانی سے پیش آؤ کہ بیگانے بھی تمہارے حلقہ احباب میں اس سے شامل ہو جاتے ہیں۔پھر اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ انسان کو نیک بختی اور تقویٰ کی طرف توجہ کرنی چاہئے آپ فرماتے ہیں کہ "اصل