خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 327
خطبات مسرور جلد 14 327 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 جون 2016 کمی کر کے ، ظاہری غذا کو کم کر کے روحانی چیزوں کی تلاش ہے اور اس میں بھی ہمیں بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہر انسان تزکیہ نفس کی کوشش کرے۔اپنے نفس کو پاک کرنے کی کوشش کرے اور اپنے قومی اور طاقتوں کو پاکیزہ کرنے کی کوشش کرے۔اگر اپنے قولی اور طاقتوں کا صحیح استعمال کرنا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کی تطہیر کرو۔ان کو پاک صاف کرو۔اور یہی وہ تقویٰ ہے جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔پھر اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ اگر جماعت میں شامل ہوئے ہو ، اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہو تو پھر پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کرو۔اسلام کی خدمت صرف باتوں سے نہیں ہو گی بلکہ ہمیں تقویٰ و طہارت اختیار کرنی پڑے گی۔یہ جو مضمون چل رہا ہے اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " اب میں پھر اپنے پہلے مقصد کی طرف رجوع کرتا ہوں یعنی صَابِرُوا وَرَابِطُوا (آل عمران: 201) جس طرح دشمن کے مقابلہ پر سرحد پر گھوڑا ہونا ضروری ہے تاکہ دشمن حد سے نہ نکلنے پاوے۔اسی طرح تم بھی تیار رہو۔" صَابِرُوا وَرَابِطُوا کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سرحدوں پر گھوڑے کھڑے کئے جاتے ہیں۔دشمن سے بچاؤ کے لئے فوج کھڑی کی جاتی ہے تاکہ دشمن ہماری سرحدوں میں داخل نہ ہو۔فرمایا اسی طرح تم بھی فوجیوں کی طرح تیار رہو۔" ایسا نہ ہو کہ دشمن سرحد سے گزر کر اسلام کو صدمہ پہنچائے۔" فرمایا کہ "میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ اگر تم اسلام کی حمایت اور خدمت کرنا چاہتے ہو تو پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کرو جس سے خود تم خدا تعالیٰ کی پناہ کے حصن حصین میں آسکو اللہ تعالیٰ کی پناہ کے مضبوط قلعہ میں آسکو" اور پھر تم کو اس خدمت کا شرف اور استحقاق حاصل ہو۔" جب اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاؤ گے تو پھر اس خدمت کا جو اسلام کی حفاظت کی خدمت ہے اس کا تمہیں موقع بھی ملے گا اور تمہارا حق بھی قائم ہو جائے گا کیونکہ تم نے اپنی اصلاح کی۔تقویٰ پہ قائم ہوئے۔فرمایا " تم دیکھتے ہو کہ مسلمانوں کی بیرونی طاقت کیسی کمزور ہو گئی ہے۔قومیں ان کو نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں۔اگر تمہاری اندرونی اور قلبی طاقت بھی کمزور اور پست ہو گئی تو بس پھر تو خاتمہ ہی سمجھو۔تم اپنے نفسوں کو ایسے پاک کرو کہ قدسی قوت ان میں سرایت کرے اور وہ سرحد کے گھوڑوں کی طرح مضبوط اور محافظ ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہمیشہ متقیوں اور راستبازوں ہی کے شامل حال ہو ا کرتا ہے۔اپنے اخلاق اور اطوار ایسے نہ بناؤ جن سے اسلام کو داغ لگ جاوے۔بدکاروں اور اسلام کی تعلیم پر عمل نہ کرنے والے مسلمانوں سے اسلام کو داغ لگتا ہے۔کوئی مسلمان شراب پی لیتا ہے تو کہیں قے کرتا پھرتا ہے۔پگڑی گلے میں ہوتی ہے۔موریوں اور گندی نالیوں میں گرتا پھرتا ہے۔پولیس کے جوتے پڑتے ہیں۔ہندو اور عیسائی اس پر ہنتے ہیں۔اس کا ایسا خلاف شرع فعل اس کی