خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 326 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 326

خطبات مسرور جلد 14 326 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 جون 2016 قرآن کریم میں بار بار تاکید میں موجود ہیں۔" اب ایک طرف اگر کوئی شخص اپنے علم اور عقل کو غلط رنگ میں استعمال کرتا ہے تو اس کی ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عقل سے بھی کام لو۔علم سے بھی کام لو اور سوچو اور تدبر بھی کرو اور آپ اسی بارے میں تاکید فرمارہے ہیں کہ قرآن کریم نے بار بار تاکید میں فرمائی ہیں جو اس میں موجود ہیں۔فرمایا کہ "کتاب مکنون اور قرآن کریم میں فکر کرو۔" قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اس کی پوشیدہ باتوں کو جاننے کی کوشش کرو، ترجمہ پڑھو، تفسیر پڑھو۔رمضان کے دنوں میں قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ درس بھی ہیں اس کی طرف توجہ دو، فرمایا اور پار ساطبع ہو جاؤ۔جب تمہارے دل پاک ہو جائیں گے اور ادھر عقل سلیم سے کام لو گے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہو جائے گی کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هُذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ - (آل عمران : 192)" فرمایا" تمہارے دل سے نکلے گا۔اُس وقت سمجھ میں آ جائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ صانع حقیقی کی حقانیت اور اثبات پر دلالت کرتی ہے تاکہ طرح طرح کے علوم وفنون جو دین کو مدد دیتے ہیں ظاہر ہوں۔" (ملفوظات جلد اول صفحہ 66) ایک طرف علم اور عقل آجکل کے جدید لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے دور لے جارہی ہے۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس عقل اور علم سے کام لو گے تو اللہ تعالیٰ کے وجود کا پتا لگے گا۔اللہ تعالیٰ کی صناعی کا پتا لگے گا۔آجکل لوگ کہتے ہیں کہ خدا نہیں۔خدا اس لئے نظر نہیں آتا کہ ان کے دین کی آنکھ اندھی ہے۔اپنی عقل اور علم کو صرف دنیاوی معیار پر پر کھتے ہیں۔صرف دنیا کی طرف توجہ ہے۔اور دین سے اس لئے ہٹ گئے ہیں کہ ان کے دین فرسودہ اور پرانے ہو چکے ہیں۔ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی نہیں رہی۔اس لئے اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ، عقل بھی نہیں کر سکتے۔ہمارے دین میں تو ہمارے لئے قرآن کریم ہی کتاب ہے اور وہ ہمیشہ کے لئے علم و معرفت سے پر کتاب ہے۔قرآن کریم پر غور اور تدبر پھر تقویٰ میں بڑھاتا ہے اللہ تعالیٰ کی صناعی کی طرف توجہ دلاتا ہے۔اور تقویٰ میں جب انسان بڑھتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کو دیکھتا ہے۔یعنی تقوی خدا تعالیٰ کو دکھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا وجود پھر غور کرنے والے کو ، تقویٰ میں ترقی کرنے والے کو پہاڑوں کی بلندی میں بھی نظر آتا ہے اور گہری گھاٹیوں میں بھی نظر آتا ہے۔دریاؤں میں بھی اللہ تعالیٰ کا وجود نظر آتا ہے اور سمندروں میں بھی نظر آتا ہے۔چاند اور ستاروں میں بھی نظر آتا ہے۔کائنات کے مختلف سیاروں میں نظر آتا ہے۔ایک حقیقی مومن صرف خشک عقل اور منطق پر نہیں چلتا بلکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ سے نور حاصل کرتا ہے۔پس روزوں میں اس نور کی بھی ہمیں تلاش کرنی چاہئے کہ رمضان کا مقصد مادی چیزوں میں