خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 325 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 325

خطبات مسرور جلد 14 325 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 جون 2016 کون لوگ یہ کام کرتے ہیں ؟ جو دین سے دُور ہٹے ہوئے ہیں، جو صحیح راہ سے ہٹے ہوئے ہیں۔فاجر کون ہے صحیح راہ سے ہٹنے والا۔جھوٹا، گنہگار ، بد اخلاق، اطاعت سے باہر نکلا ہوا۔ایسے لوگ جو ہیں یہ فاجر کہلاتے ہیں۔فرمایا " یہ فعل فتاق و فجار کا ہے۔جو شخص کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اسی طرح مبتلا نہ ہو گا۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔جب ایک ہی چشمہ سے گل پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔مکرم و معظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ انْقَكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (الحجرات:14)" (ملفوظات جلد اول صفحہ 36) پھر اس بات کو فرماتے ہوئے کہ متقی کون ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ : "خدا کے کلام سے پایا جاتا ہے کہ متقی وہ ہوتے ہیں جو حلیمی اور مسکینی سے چلتے ہیں۔وہ مغرورانہ گفتگو نہیں کرتے۔ان کی گفتگو ایسی ہوتی ہے جیسے چھوٹا بڑے سے گفتگو کرے۔" متقی کون ہے ؟ وہ جو ہر ایک سے اس طرح گفتگو کرتے ہیں جس طرح چھوٹا شخص، بچہ بڑے سے بات کرتا ہے یا غریب،امیر سے بات کرتا ہے۔اس طرح گفتگو کرتے ہیں۔باوجود امیر ہونے کے باوجود بڑے ہونے کے ان میں یہ صفت پائی جاتی ہے کہ وہ انتہائی عاجزی سے بات کرتے ہیں۔فرمایا کہ "ہم کو ہر حال میں وہ کرنا چاہئے جس سے ہماری فلاح ہو۔اللہ تعالیٰ کسی کا اجارہ دار نہیں۔وہ خاص تقویٰ کو چاہتا ہے۔جو تقویٰ کرے گا وہ مقام اعلیٰ کو پہنچے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت ابراہیم علیہ السلام میں سے کسی نے وراثت سے تو عزت نہیں پائی۔"آپ فرماتے ہیں کہ " گو ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد عبد اللہ مشرک نہ تھے لیکن اس نے نبوت تو نہیں دی۔یہ تو فضل الہی تھا ان صدقوں کے باعث جو اُن کی فطرت میں تھے۔یہی فضل کے محرک تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جو ابوالانبیاء تھے انہوں نے اپنے صدق و تقویٰ سے ہی بیٹے کو قربان کرنے میں دریغ نہ کیا۔خود آگ میں ڈالے گئے۔ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی صدق و وفا دیکھئے۔آپ نے ہر ایک قسم کی بد تحریک کا مقابلہ کیا۔طرح طرح کے مصائب اور تکالیف اٹھائے لیکن پروانہ کی۔یہی صدق و وفا تھا جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔" (ملفوظات جلد اول صفحہ 37) پس یہ اُسوہ حسنہ ہے جو ہمارے لئے بھی ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ کس طرح کچی فراست اور کچی دانش حاصل کی جائے ؟ فرمایا کہ " سچی فراست اور سچی "عقل یا " دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کئے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔اسی واسطے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ نور الہی سے دیکھتا ہے۔صحیح فراست اور حقیقی دانش کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقویٰ میسر نہ ہو۔" فرمایا " اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو عقل سے کام لو۔فکر کرو۔سوچو۔تدبر اور فکر کے لئے