خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 10
خطبات مسرور جلد 14 10 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 ہو جاتا ہے " بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں۔" بڑا آدمی ہو، امیر آدمی ہو تو بڑے ادب سے ملتے ہیں۔بڑا عزت احترام کرتے ہیں "لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے۔کسی مسکین اور غریب آدمی کی بات کو سنے اور بڑے آرام سے سنے، توجہ سے سنے اس کی دلجوئی کرے۔اس کی بات کی عزت کرے۔کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ بِئْسَ الِ اسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (الحجرات:12) تم ایک دوسرے کا چڑ کے نام نہ لو۔یہ فعل فستاق وفجار کا ہے۔جو شخص کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جبتک وہ خود اسی طرح مبتلا نہ ہو گا۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔جب ایک ہی چشمہ سے گل پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔مکرم و معظم کوئی دنیاوی اصول سے نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ انْقَكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ - (الحجرات : 14)۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 36) پھر تقویٰ کے بارے میں جماعت کو مزید نصیحت کرتے ہوئے، اس کے مختلف پہلو بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " اللہ تعالیٰ نے جس قدر قوی عطا فرمائے ہیں " جس قدر قوتیں انسان کو دی ہیں " وہ ضائع کرنے کے لئے نہیں دیئے گئے۔ان کی تعدیل اور جائز استعمال کرنا ہی ان کی نشو و نما ہے۔" ان کو انصاف سے اور جائز جگہ پر استعمال کرنا یہی ان کا صحیح استعمال ہے۔اس سے وہ بہتر ہوتے ہیں۔نشو و نما پاتے ہیں۔بڑھتے ہیں۔صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں۔مزید نیکی اجاگر ہوتی ہے۔فرمایا اسی لئے اسلام نے قوائے رجولیت یا آنکھ کے نکالنے کی تعلیم نہیں دی بلکہ ان کا جائز استعمال اور تزکیہ نفس کرایا۔" جنسی قویٰ جو ہیں یا آنکھ جو ہے یہ کسی بد کام کے لئے نہیں دیئے گئے۔آنکھ سے بد نظری کرنے کا نہیں کہا۔یہ سارے قویٰ دیئے ہیں لیکن فرمایا کہ ان کا جائز استعمال کرو تو تزکیۂ نفس ہو گا۔" جیسے فرمایا۔قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (المؤمنون: 2) اور ایسے ہی یہاں بھی فرمایا۔متقی کی زندگی کا نقشہ کھینچ کر آخر میں بطور نتیجہ یہ کہا وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔" یہ اس کی تشریح بیان کر رہے ہیں۔" یعنی وہ لوگ جو تقویٰ پر قدم مارتے ہیں۔ایمان بالغیب لاتے ہیں۔نماز ڈگمگاتی ہے پھر اسے کھڑا کرتے ہیں۔"لوگ کہتے ہیں نماز میں توجہ نہیں رہتی تو بہتوں کے ساتھ یہ حالت پیدا ہوتی ہے کہ ڈگمگاتی ہے تو اسے کھڑا کرتے ہیں۔" خدا کے دیئے ہوئے سے دیتے ہیں۔باوجو د خطرات نفس بلا سوچے گزشتہ اور موجودہ کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور آخر کار وہ یقین تک پہنچ جاتے ہیں۔" پہلے ایمان بالغیب ہوتا ہے آخر پھر وہی ایمان بالغیب جو ہے وہ یقین تک لے جاتا ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت کے سر پر ہیں۔وہ ایک ایسی سڑک پر ہیں جو برابر آگے کو جارہی ہے۔" یعنی مسلسل کوشش