خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 324
خطبات مسرور جلد 14 324 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جون 2016 اور میلا ہو تو قیاس کیا جاتا ہے کہ بڑی نہر کا پانی خراب ہے۔پس اگر کسی کو دیکھو کہ اس کی زبان یا دست و پاوغیرہ میں سے کوئی عضو نا پاک ہے تو سمجھو کہ اس کا دل بھی ایسا ہی ہے۔" (ملفوظات جلد دوم صفحہ 321) اگر کسی کی زبان گندی ہے، روزے رکھنے کے باوجود لڑائی جھگڑوں اور گالم گلوچ سے باز نہیں آتا یا اس کے ہاتھوں سے غلط کام ہو رہے ہیں تو سمجھ لو کہ اس کا دل بھی صاف نہیں ہے اور یہ تقویٰ سے دُور ہے۔پھر اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کرنی چاہئے ، آپ فرماتے ہیں کہ : " اہل تقویٰ کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں۔یہ تقویٰ کی ایک شاخ ہے جس کے ذریعہ سے ہمیں ناجائز غضب کا مقابلہ کرنا ہے۔بلاوجہ کا غصہ جو ہے اس کا مقابلہ کرنا ہے۔غصہ اگر صحیح موقع اور محل کے حساب سے ہو تو جائز ہے لیکن ناجائز غصہ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ اور لڑائی جھگڑے ان سے بچو۔فرمایا کہ " بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لئے آخری اور کڑی منزل غضب سے بچنا ہی ہے۔سب سے بڑا مشکل کام جو ہے وہ غضب سے بچنا، غصہ سے بچنا، اپنے جذبات کو کنٹرول کرنا ہے۔فرمایا " محجب و پندار غضب سے پید اہو تا ہے " یعنی تکبر اور غرور جو ہیں وہ غصہ میں سے پیدا ہوتے ہیں " اور ایسا ہی کبھی خو د غضب محجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے۔" اور غصہ بھی اس لئے آتا ہے کہ انسان میں تکبر پایا جاتا ہے۔غرور ہے۔اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے۔عاجزی نہیں ہے، مسکینی نہیں ہے اس لئے غصہ کی حالت پیدا ہوتی ہے اور یہ غصہ ہی ہے آجکل دنیا میں ہر جگہ گھروں سے لے کے بڑی سطح تک ہر جگہ اس نے فساد پیدا کیا ہوا ہے۔فرمایا کہ " کیونکہ غضب اس وقت ہو گا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔" فرمایا کہ "میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں۔یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں۔خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔یہ ایک قسم کی تحقیر ہے۔جس کے اندر حقارت ہے ، ڈر ہے کہ یہ حقارت بیج کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جاوے۔"اگر کسی کو حقیر سمجھتے ہو، چھوٹا سمجھتے ہو، کم تر سمجھتے ہو، کسی قسم کا استہزاء کرتے ہو، کسی کو کم نظر سے دیکھتے ہو تو یہ چیزیں حقارت کے زمرہ میں آتی ہیں اور یہ حقارت کا بیج جب دل میں قائم ہو جائے تو وہ بڑھتی ہے اور پھر نتیجہ کیا نکلتا ہے کہ انسان کو ہلاک کر دیتی ہے۔فرمایا اس سے بچو۔فرمایا کہ " بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے، اس کی دلجوئی کرے، اس کی بات کی عزت کرے۔کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الْإِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (الحجرات:12) فرمایا کہ " تم ایک دوسرے کا چڑ کے نام نہ لو۔یہ فعل فتاق و فجار کا ہے۔یعنی اس طرح چڑ کے نام لینا یہ فعل کس کا ہے،