خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 323
خطبات مسرور جلد 14 323 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جون 2016 ہو سکتا ہے۔کسی کے تقویٰ کو اس کے ظلم ہونے سے نہ پہچانو" یہ نہ سمجھو کہ وہ بڑا متقی ہے۔اس کو بڑی خواہیں آتی ہیں۔بڑا نیک ہے۔الہامات ہوتے ہیں۔کشف ہوتے ہیں۔نہیں، بلکہ اس کے الہاموں کو اس کی حالت تقویٰ سے جانچو۔اگر اس کو جانچنا ہے کہ وہ الہامات یا خوا ہیں صحیح ہیں تو یہ دیکھو کہ اس میں تقویٰ بھی ہے کہ نہیں۔بعض چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں مثلاً یہ مثال دی کہ کسی نے کہا کہ تم نے میری فلاں چیز اٹھالی تو اس کو غصہ آگیا۔یہ طیش میں آنا، غصہ میں آنا اپنے حق کی خاطر دوسروں کو نقصان پہنچانا یہ چیزیں تقویٰ نہیں ہیں اور اگر یہ چیزیں نہیں ہیں اور پھر لاکھ کوئی کہتا رہے میں بڑی سچی خوابیں دیکھتا ہوں مجھے بڑے کشف ہوتے ہیں تو وہ سب غلط ہیں۔فرمایا کہ " ملہم ہونے سے نہ پہچانو بلکہ اس کے الہاموں کو اس کی حالت تقویٰ سے جانچو اور اندازہ کرو۔سب طرف سے آنکھیں بند کر کے پہلے تقویٰ کے منازل کو طے کرو۔انبیاء کے نمونہ کو قائم رکھو۔جتنے نبی آئے سب کا مدعا یہی تھا کہ تقویٰ کا راہ سکھلائیں۔اِنْ اَوْلِيَاءُ ذَ إِلَّا الْمُتَّقُونَ (الانفال:35) مگر قرآن شریف نے تقویٰ کی باریک راہوں کو سکھلایا ہے۔کمال نبی کا کمال امت کو چاہتا ہے۔" فرمایا " چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تھے۔صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے آنحضرت پر کمالات نبوت ختم ہوئے۔کمالات نبوت ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم نبوت ہوا۔جو خدا تعالیٰ کو راضی کرنا چاہے اور معجزات دیکھنا چاہے اور خوارق عادت دیکھنا منظور ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی بھی خارق عادت بنالے۔" ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 301-302) پس یہ انقلاب ہمیں لانے کی ضرورت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے ہیں، آپ کی امت میں سے ہیں تو آپ کا اُسوہ حسنہ ہمارے لئے ہے اور اس کے لئے یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھے اور حقیقی تقویٰ پیدا ہو۔پھر اس بات کی طرف بھی وضاحت فرماتے ہوئے کہ ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے فرمایا کہ " تقویٰ اختیار کرو۔تقویٰ ہر چیز کی جڑ ہے۔تقویٰ کے معنی ہیں ہر ایک بار یک در باریک رگِ گناہ سے بچنا۔تقویٰ اس کو کہتے ہیں کہ جس امر میں بدی کا شبہ بھی ہو اس سے بھی کنارہ کرے۔" یہ نہیں کہ ظاہری بدی ظاہر ہو رہی ہے بلکہ اگر کوئی شک بھی ہے کہ اس میں کوئی بدی ہو سکتی ہے تو اس سے بچو۔فرمایا " دل کی مثال ایک بڑی نہر کی سی ہے جس میں سے اور چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں جن کو سوا کہتے ہیں یا را جبابا کہتے ہیں۔"پنجاب میں ، ہندوستان میں، پاکستان میں چھوٹی نہریں جو ہیں ان کو ان کی مقامی زبان میں سو آیار اجبابا کہتے ہیں۔فرمایا کہ " دل کی نہر میں سے بھی چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں۔مثلاً زبان وغیرہ۔" زبان ہے، ہاتھ ہے یا جو دوسرے سارے کام ہیں جن کا دل کے اوپر اثر ہوتا ہے فرمایا کہ " دل کی نہر میں سے بھی چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں مثلاً زبان وغیرہ۔اگر چھوٹی نہر یا سوئے کا پانی خراب اور گندہ