خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 322
خطبات مسرور جلد 14 322 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جون 2016 خیالات انسان کے اندر آتے ہیں یہ انسان کے اندر کا شیطان ہے۔فرمایا کہ " اگر اصلاح نہ پائیں گی تو ان طاقتوں کو جو تمہارے اندر نفس امارہ کی صورت میں ہیں جو شیطان کی شکل میں ہیں اگر ان کی اصلاح نہیں کرو گے یا یہ قوتیں اصلاح نہیں پاتیں تو پھر کیا نتیجہ ہو گا کہ " انسان کو غلام کر لیں گی۔" فرمایا کہ "علم و عقل ہی برے طور پر استعمال ہو کر شیطان ہو جاتے ہیں۔"علم ہے، بڑی اچھی چیز ہے۔انسان کی عقل ہے، انسان عقلمند ہو تو بڑے بڑے کام کرتا ہے۔لیکن اگر یہ علم اور انسان کی عقل جس پر انسان فخر کرنے لگ جائے، ان کو غلط کاموں کے لئے استعمال کرنے لگ جائے یا ان کو نیکیوں کے مقابلے پر کھڑا کر دے تو یہ شیطان ہو جاتی ہیں۔فرمایا کہ " متقی کا کام ان کی اور ایسا ہی اور دیگر گل قومی کی تعدیل کرنا ہے۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 33) منتقی کون ہے ؟ اس کا ایسے موقع پر کیا کام ہے۔یہ چیزیں جو ہیں، علم ہے، عقل ہے یا دوسری چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہوئی ہیں، قومی دیئے ہوئے ہیں ان کو صحیح موقع پر استعمال کرنا، یہ متقی کا اصل کام ہے۔ور نہ اگر صحیح موقع پر استعمال نہیں ہو رہیں تو یہی چیزیں انسان کو نقصان پہنچادیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دور لے جاتی ہیں، شیطان کے قریب کر دیتی ہیں۔پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ " تقویٰ کا مضمون باریک ہے۔اس کو حاصل کرو۔خدا کی عظمت دل میں بٹھاؤ۔جس کے اعمال میں کچھ بھی ریا کاری ہو خدا اس کے عمل کو واپس الٹا کر اس کے منہ پر مارتا ہے۔"کسی بھی عمل میں دکھاوا نہ ہو۔ریا کاری نہ ہو ، بناوٹ نہ ہو اگر یہ ہے تو وہ عمل اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں، چاہے وہ عبادت ہے، مثلاً چاہے وہ قرآن کریم کی تلاوت ہے ، چاہے وہ روزہ رکھنا ہے یا کوئی اور نیکی کا کام ہے۔فرمایا " منتقی ہونا مشکل ہے۔اگر کوئی تجھے کہے کہ تو نے قلم چرایا ہے تو تو کیوں غصہ کرتا ہے۔"کوئی اگر تمہیں کہے کہ میرا قلم یہاں پڑا ہوا تھا تم نے اس کو چرایا ہے، اٹھا لیا ہے تو تم اس وقت غصہ میں آ جاتے ہو۔کیوں؟ تیرا پر ہیز تو محض خدا کے لئے ہے۔" اگر نیکی ہے، اگر تقویٰ ہے تو پھر اس غصہ سے بچنا خدا کے لئے ہونا چاہئے۔ذراسی بات پر اپنی آنا کو سامنے نہ لے آؤ بلکہ اپنے عمل کو خدا کی رضا کے مطابق ڈھالو۔فرمایا کہ " یہ طیش اس واسطے ہوا کہ رُو بحق نہ تھا۔" یہ غصہ کیوں آیا؟ اس لئے کہ تمہارا اصل مقصد خدا کی رضا نہیں تھی بلکہ تم اپنی انا کی طرف چل رہے تھے۔" جب تک واقعی طور پر انسان پر بہت سی موتیں نہ آجائیں وہ متقی نہیں بنتا۔" فرمایا کہ " معجزات اور الہامات بھی تقویٰ کی فرع ہیں۔اصل تقویٰ ہے۔"کوئی کہہ دے مجھے الہامات ہوتے ہیں یا معجزے دکھاتا ہوں۔تو یہ تقویٰ کی وجہ سے ایک ضمنی چیزیں ہیں۔اصل چیز تقویٰ ہے۔" اس واسطے تم الہامات اور رؤیا کے پیچھے نہ پڑو بلکہ حصول تقویٰ کے پیچھے لگو۔جو متقی ہے اسی کے الہامات بھی صحیح ہیں اور اگر تقویٰ نہیں تو الہامات بھی قابل اعتبار نہیں۔اُن میں شیطان کا حصہ