خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 321
خطبات مسرور جلد 14 321 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 جون 2016 روزے کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ تم تقویٰ میں ترقی کرو۔ایک مہینہ تربیت کا مہیا کیا گیا ہے ، اس میں اپنے تقویٰ کے معیار بڑھاؤ۔یہ تقویٰ تمہارے نیکیوں کے معیار بھی بلند کرے گا۔یہ تمہیں مستقل نیکیوں پر قائم بھی کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا قرب بھی دلائے گا اور اسی طرح گزشتہ گناہ بھی معاف ہوں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان کی حالت میں رکھے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے رکھے اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔(بخاری کتاب الصوم باب من صام رمضان ايماناً واحتساباً و نية حديث 1901) پس جب گزشتہ گناہ معاف ہو جائیں اور پھر تقویٰ کو اختیار کر کے انسان اس پر قائم ہو جائے تو ایسا انسان یقینار مضان میں سے گزرنے کے مقصد میں کامیاب ہو گیا بلکہ اس نے اپنی زندگی کا مقصد پالیا۔تقویٰ کے فوائد جو ہمیں قرآن کریم میں ملتے ہیں اس میں ایک فائدہ اللہ تعالیٰ نے خود یہ بیان فرمایا ہے کہ فَاتَّقُوا اللهَ يَأُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدة: 101) پس اسے عظمند و! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم فلاح پاؤ، بامراد ہو جاؤ۔پس کون ہے جو کامیابی حاصل نہیں کرنا چاہتا۔دنیا کی کامیابیاں تو یہیں رہ جاتی ہیں۔اصل کامیابی تو وہ ہے جو اس دنیا کی بھی کامیابی ہے اور اگلے جہان کی بھی کامیابی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تمہارے میں عقل ہے تو سن لو کہ وہ کامیابی تقویٰ پر قائم ہونے سے ہی ملے گی۔آج جہاں دین کے نام پر نام نہاد علماء مسلمانوں سے ایسے کام کروارہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے سراسر خلاف ہیں اور تقویٰ سے دُور ہیں وہاں احمدی خوش قسمت ہیں کہ انہیں زمانے کے امام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو ماننے کی توفیق ملی جنہوں نے ہمیں اسلام کی تعلیم کی ہر باریکی سے آگاہ فرمایا ہے۔تقویٰ کیا ہے ؟ اور تقویٰ کا حصول کن کن چیزوں سے ہوتا ہے ؟ اور اپنی جماعت کے افراد سے اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیا توقع رکھتے ہیں ؟ ان باتوں کو جاننے اور سمجھنے کے لئے میں نے آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض حوالے لئے ہیں جو اس وقت میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔یہ وہ رہنما باتیں ہیں جو ہمیں ایمان میں بڑھاتے ہوئے تقویٰ پر قائم کرتی ہیں اور جس تربیت کے مہینے سے ہم تقویٰ کے حصول کے لئے گزر رہے ہیں ان کے لئے لائحہ عمل بھی مقرر کرتی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " تقوی کوئی چھوٹی چیز نہیں۔اس کے ذریعہ سے ان تمام شیطانوں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے جو انسان کی ہر ایک اندرونی طاقت و قوت پر غلبہ پائے ہوئے ہیں۔یہ تمام قوتیں نفس انارہ کی حالت میں انسان کے اندر شیطان ہیں۔" یعنی بدی کی رغبت دلانے والی جو طاقتیں ہیں یا بدی کی طرف جانے کے لئے اور نیکیوں سے روکنے کے لئے جو