خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 320 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 320

خطبات مسرور جلد 14 320 24 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جون 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 10 جون 2016ء بمطابق 10 احسان 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصَّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة:184) اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو تم پر روزے اسی طرح فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی بات کی طرف توجہ دلائی ہے جو ہماری دنیا و عاقبت سنوارنے والی ہے اور وہ بات ہے فرمایا لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔پس روزوں کی فرضیت کی اس لئے اہمیت نہیں ہے کہ اسلام سے پہلے مذاہب میں بھی روزے مقرر کئے گئے تھے بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو، تاکہ تم برائیوں سے بچ جاؤ۔روزہ کیا ہے ؟ یہ ایک مہینہ خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے آپ کو ان جائز باتوں سے بھی روکنا ہے جن کی عام حالات میں اجازت ہے۔پس جب اس مہینہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر جائز باتوں سے رُکنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک انسان ناجائز باتوں اور برائیوں کو کرے۔اگر کوئی اس روح کو سامنے رکھتے ہوئے روزے نہیں رکھتا کہ میں نے یہ دن اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتے ہوئے گزارنے ہیں اور ہر اس بات سے بچنا ہے جس سے بچنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور ہر اس بات کو کرنا ہے جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اگر یہ روح مد نظر نہیں، ہر وقت ہمارے سامنے نہیں اور اس کے مطابق عمل کی کوشش نہیں تو یہ روزے بے فائدہ ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کو تمہیں صرف بھو کار کھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔(بخاری کتاب الصوم باب من لم يدع قول الزور۔۔۔الخ حديث 1903)