خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 318
خطبات مسرور جلد 14 318 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 قبل بلوغت کم عمری میں آپ علیہ السلام روزہ رکھوانا پسند نہیں کرتے تھے۔بس ایک آدھ رکھ لیا کافی ہے۔حضرت اماں جان نے میرا پہلا روزہ رکھوایا تو بڑی دعوت افطار دی۔یعنی جو خواتین جماعت تھیں سب کو بلایا تھا۔اس رمضان کے بعد دوسرے یا تیسرے رمضان میں میں نے روزہ رکھ لیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا کہ آج میر اروزہ پھر ہے۔آپ حجرہ میں تشریف رکھتے تھے۔پاس سٹول پر دوپان لگے رکھے تھے۔غالباً حضرت اناں جان بنا کر رکھ گئی ہوں گی۔آپ نے ایک پان اٹھا کر مجھے دیا کہ لو یہ پان کھالو۔تم کمزور ہو۔ابھی روزہ نہیں رکھنا۔توڑ ڈالو روزہ۔میں نے پان تو کھا لیا مگر آپ سے کہا کہ صالحہ یعنی ممانی جان مرحومہ۔چھوٹے ماموں جان کی اہلیہ محترمہ نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے۔وہ بھی اس وقت چھوٹی عمر کی تھیں ان کا بھی تڑواد ہیں۔فرمایا بلاؤ اس کو بھی۔میں بلالائی۔وہ آئیں تو ان کو بھی دوسر اپان اٹھا کر دیا اور فرمایا لو یہ کھالو۔تمہارا روزہ نہیں ہے۔فرماتی ہیں کہ غالباً میری عمر دس سال کی ہوگی۔(ماخوذ از تحریرات مبار کہ بحوالہ فقہ المسیح صفحہ 214 باب روزہ اور رمضان) (ملفوظات جلد 9 صفحہ 65) اسی طرح تراویح کے بارے میں بعض سوال ہیں۔" اکمل صاحب آف گولیکی نے بذریعہ تحریر حضرت " مسیح موعود علیہ السلام " سے دریافت کیا کہ رمضان شریف میں رات کو اٹھنے اور نماز پڑھنے کی تاکید ہے لیکن عموماً محنتی مزدور زمیندار لوگ جو ایسے اعمال کے بجالانے میں غفلت دکھاتے ہیں اگر اول شب میں ان کو گیارہ رکعت تراویح بجائے آخر شب کے پڑھا دی جاویں تو کیا جائز ہو گا ؟ حضرت اقدس علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: کچھ ہرج نہیں۔پڑھ لیں۔" تراویح کے متعلق عرض ہوا کہ جب یہ تہجد ہے تو ہمیں رکعات پڑھنے کی نسبت کیا ارشاد ہے کیونکہ تہجد تو مع و تر گیارہ یا تیرہ رکعت ہے۔فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت دائمی تو وہی آٹھ رکعات ہے اور آپ تہجد کے وقت ہی پڑھا کرتے تھے اور یہی افضل ہے مگر پہلی رات بھی پڑھ لینا جائز ہے۔" مناسب تو یہی ہے کہ تہجد کے وقت اٹھ کے آٹھ رکعت پڑھا جائے لیکن اگر پہلی رات پڑھ لو تو پھر بھی جائز ہے۔" ایک روایت میں ہے کہ آپ نے رات کے اول حصہ میں اُسے پڑھا۔بیس رکعات بعد میں پڑھی گئیں۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وہی تھی جو پہلے بیان ہوئی۔" ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 113) یہ جو بیس رکعات یا زیادہ رکعات والی باتیں ہیں یہ تو بعد کی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت آٹھ رکعت تہجد ہے۔" ایک صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں خط لکھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ سفر میں نماز کس طرح