خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 317
خطبات مسرور جلد 14 317 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 شریعت نے چھوٹی عمر کے بچوں کو روزہ رکھنے سے منع کیا ہے لیکن بلوغت کے قریب انہیں کچھ روزے رکھنے کی مشق ضرور کرانی چاہئے۔" آپ فرماتے ہیں کہ " مجھے جہاں تک یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے پہلا روزہ رکھنے کی اجازت بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں دی تھی۔لیکن بعض بیوقوف چھ سات سال کے بچوں سے روزے رکھواتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس کا ثواب ہو گا۔یہ ثواب کا کام نہیں بلکہ ظلم ہے کیونکہ یہ عمر نشو و نما کی ہوتی ہے۔ہاں ایک عمر وہ ہوتی ہے کہ بلوغت کے دن قریب ہوتے ہیں اور روزہ فرض ہونے والا ہی ہو تا ہے۔اس وقت ان کو روزوں کی ضرور مشق کرانی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اجازت اور سنت کو اگر دیکھا جائے تو بارہ تیرہ سال کے قریب کچھ کچھ مشق کرانی چاہئے اور ہر سال چند روزے رکھوانے چاہئیں یہاں تک کہ اٹھارہ سال کی عمر ہو جائے جو میرے نزدیک روزہ کی بلوغت کی عمر ہے۔مجھے پہلے سال صرف ایک روزہ رکھنے کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اجازت دی تھی۔بارہ تیرہ سال میں جب روزے کی اجازت دلوائی تھی تو صرف ایک روزہ رکھوایا تھا۔اس عمر میں تو صرف شوق ہوتا ہے۔اس شوق کی وجہ سے بچے زیادہ روزے رکھنا چاہتے ہیں مگر یہ ماں باپ کا کام ہے کہ انہیں رو کیں۔پھر ایک عمر ایسی ہوتی ہے کہ اس میں چاہئے کہ بچوں کو جرآت دلائیں کہ وہ کچھ روزے ضرور رکھیں۔" بچپن میں ماں باپ کا کام ہے روکیں، زیادہ نہ رکھنے دیں۔پھر جب جوانی کی عمر آرہی ہے تو پھر جرآت دلائیں اور ان سے روزے رکھوائیں " اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھتے رہیں کہ وہ زیادہ نہ رکھیں۔اور دیکھنے والوں کو بھی اس پر اعتراض نہ کرنا چاہئے کہ یہ سارے روزے کیوں نہیں رکھتا۔کیونکہ اگر بچہ اس عمر میں سارے روزے رکھے گا تو آئندہ نہیں رکھ سکے گا۔اسی طرح بعض بچے خلقی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ اپنے بچوں کو میرے پاس ملاقات کے لئے لاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس کی عمر پندرہ سال ہے حالانکہ وہ دیکھنے میں سات آٹھ سال کے معلوم ہوتے ہیں۔" اکثریوں ہی ہوتا ہے۔میرے پاس بھی ایسے آتے ہیں۔اور فرمایا کہ " میں سمجھتا ہوں کہ ایسے بچے روزے کے لئے شاید اکیس سال کی عمر میں بالغ ہوں۔اس کے مقابلے میں ایک مضبوط بچہ غالباً پندرہ سال کی عمر میں ہی اٹھارہ سال کے برابر ہو سکتا ہے۔لیکن اگر وہ میرے ان الفاظ ہی کو پکڑ کر بیٹھ جائے کہ روزے کی بلوغت کی عمر اٹھارہ سال ہے تو نہ وہ مجھ پر ظلم کرے گا نہ خدا تعالیٰ پر بلکہ اپنی جان پر آپ ظلم کرے گا۔اسی طرح اگر کوئی چھوٹی عمر کا بچہ پورے روزے نہ رکھے اور لوگ اس پر طعن کریں تو وہ طعن کرنے والے بھی اپنی جان پر ظلم کریں گے۔" ( تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ 385) حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی صاحبزادی تھیں کہتی ہیں