خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 316 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 316

خطبات مسرور جلد 14 316 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 اور اس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خد اتعالیٰ طاقت بخش دے گا۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 258-259) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ "فدیہ دے دینے سے روزہ اپنی ذات میں ساقط نہیں ہو جاتا بلکہ یہ محض اس بات کا فدیہ ہے کہ ان مبارک ایام میں وہ کسی جائز شرعی عذر کی بنا پر باقی مسلمانوں کے ساتھ مل کر یہ عبادت ادا نہیں کر سکے۔آگے یہ عذر دو قسم کے ہوتے ہیں ایک عارضی اور ایک مستقل۔فدیہ بشرط استطاعت ان دونوں حالتوں میں دینا چاہئے۔غرضیکہ خواہ کوئی فدیہ بھی دے دے بہر حال سال دو سال یا تین سال کے بعد جب بھی اس کی صحت اجازت دے اسے پھر روزے رکھنے ہوں گے سوائے اس صورت کے کہ پہلے مرض عارضی تھا اور صحت ہونے کے بعد وہ ارادہ ہی کرتا رہا کہ آج رکھتا ہوں کل رکھتا ہوں کہ اس دوران میں اس کی صحت پھر مستقل طور پر خراب ہو جائے۔باقی جو بھی کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہو اگر وہ مریض یا مسافر ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ رمضان میں ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دے اور دوسرے ایام میں روزے رکھے۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مذہب تھا اور آپ ہمیشہ فدیہ بھی دیتے تھے اور بعد میں روزے بھی رکھتے تھے اور اسی کی دوسروں کو تاکید بھی فرمایا کرتے تھے۔" ( تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ 389) حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک "سوال پیش ہوا کہ جو شخص روزہ رکھنے کے قابل نہ ہو اس کے عوض مسکین کو کھانا کھلانا چاہے۔اس کھانے کی رقم قادیان کے یتیم فنڈ میں بھیجنا جائز ہے یا نہیں " یا جو بھی اب جماعتی نظام ہے اس میں دینا جائز ہے کہ نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے " فرمایا کہ ایک ہی بات ہے خواہ اپنے شہر میں مسکین کو کھلائے یا یتیم اور مسکین فنڈ میں بھیج دے۔" (ملفوظات جلد 9 صفحہ 171) اپنا کوئی واقف کار ہے کسی کے روزے کھلوانے ہیں تو وہاں بھی کھلوائے جاسکتے ہیں۔بے خبری میں کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ایک "خط سے سوال " آپ کی خدمت میں " پیش ہوا کہ میں بوقت سحر بمادرمضان اندر بیٹھا ہوا بے خبری سے کھاتا پیتا رہا۔جب باہر نکل کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ سفیدی ظاہر ہو گئی ہے۔کیا وہ روزہ میرے اوپر رکھنا لازم ہے یا نہیں ؟" دیر تک سحری کھاتا رہا۔سفیدی ظاہر ہو چکی تھی۔" حضرت نے فرمایا کہ بے خبری میں کھایا پیا تو اس پر اس روزہ کے بدلے میں دوسر اروزہ لازم نہیں آتا۔" ( ملفوظات جلد 9 صفحہ 186) اگر بے خبری میں کھا لیا پھر کوئی حرج نہیں۔عمر کا سوال کہ کس عمر میں روزہ رکھنا چاہئے ؟ کئی بچے بھی پوچھتے ہیں۔بڑے بھی پوچھتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ " یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ