خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 315 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 315

خطبات مسرور جلد 14 315 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا۔جب یہ جواب حضرت مفتی صاحب نے سنا تو لکھنے والے لکھتے ہیں کہ پھر تو مفتی صاحب اور بھی شیر ہو گئے۔(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 2 حصہ چہارم صفحه 147 روایت نمبر 1202) بیمار ہونے پر روزہ کھول دینا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔اس وقت غروب آفتاب کا وقت بہت قریب تھا مگر آپ نے فوراً روزہ توڑ دیا۔آپ ہمیشہ شریعت میں سہل راستے کو اختیار فرمایا کرتے تھے۔" حضرت میاں بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ " خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث میں حضرت عائشہ کی روایت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی یہی ذکر آتا ہے کہ آپ ہمیشہ دو جائز رستوں میں سے سہل رستہ کو پسند فرماتے تھے۔" (سیرت المہدی جلد اول حصہ سوئم صفحہ 637 روایت نمبر 697) یہ سوال ہوا کہ " بعض اوقات رمضان ایسے موسم میں آتا ہے کہ کاشتکاروں سے جبکہ کام کی کثرت مثل تخم ریزی و درود گی ہوتی ہے۔ایسے ہی مزدوروں سے جن کا گزارہ مزدوری پر ہے روزہ نہیں رکھا جاتا۔تو اس کی نسبت کیا ارشاد ہے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے " فرمایا: - اَلْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔یہ لوگ اپنی حالتوں کو مخفی رکھتے ہیں۔ہر شخص تقویٰ و طہارت سے اپنی حالت سوچ لے۔اگر کوئی اپنی جگہ مزدوری پر رکھ سکتا ہے تو ایسا کرے ورنہ مریض کے حکم میں ہے پھر جب میسر ہو رکھ لے۔خاص طور پر گرمی کے دن لمبے ہوتے ہیں اور ان ممالک میں شدید گرمی ہوتی ہے۔وہاں کے بارے میں ہے کہ مزدوری کی وجہ سے بعد میں رکھ لیں" اور وعکی الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ کی نسبت فرمایا کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جو طاقت نہیں رکھتے۔" ( ملفوظات جلد 9 صفحہ 394) رمضان میں جن سے روزے نہیں رکھے جاتے وہ فدیہ دیتے ہیں ان کے لئے کیا حکم ہے ؟ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " ایک دفعہ میرے دل میں خیال آیا کہ فدیہ کس لئے مقرر کیا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ توفیق کے واسطے ہے تاکہ روزے کی توفیق اس سے حاصل ہو۔خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو تو فیق عطا کرتی ہے اور ہر شئے خدا تعالیٰ ہی سے طلب کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزے کی طاقت عطا کر سکتا ہے۔تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جائے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔پس میرے نزدیک خوب ہے کہ (انسان) دعا کرے کہ الہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کر سکوں یانہ