خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 9

خطبات مسرور جلد 14 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 پر کمالات نبوت ختم ہوئے۔کمالات نبوت ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم نبوت ہوا۔جو اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہے اور معجزات دیکھنا چاہے اور خوارق عادت دیکھنا منظور ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی بھی خارق عادت بنالے۔" جو خاتم النبیین ہے تو اس خاتم النبیین کو ماننے والے کو خود بھی تقویٰ کے وہ معیار حاصل کرنے چاہئیں جو اعلیٰ ترین معیار ہوں اس لئے فرمایا کہ اپنی زندگی بھی خارق عادت بناؤ۔" فرمایا کہ " دیکھو امتحان دینے والے محنتیں کرتے کرتے مدقوق کی طرح بیمار اور کمزور ہو جاتے ہیں۔" اس طرح پڑھ پڑھ کے بیچارے کمزور ہو جاتے ہیں جس طرح کوئی ٹی بی کا مریض ہو۔" پس تقویٰ کے امتحان میں پاس ہونے کے لئے ہر ایک تکلیف اٹھانے کے لئے تیار ہو جاؤ۔" تقویٰ بھی ایک امتحان ہے اس کے لئے بھی محنت کرنا پڑتی ہے۔" جب انسان اس راہ پر قدم اٹھاتا ہے تو شیطان اس پر بڑے بڑے حملے کرتا ہے لیکن ایک حد پر پہنچ کر آخر شیطان ٹھہر جاتا ہے۔یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب انسان کی سفلی زندگی پر موت آ کر وہ خدا کے زیر سایہ ہو جاتا ہے۔وہ مظہر الہی اور خلیفہ اللہ ہوتا ہے۔مختصر خلاصہ ہماری تعلیم کا یہی ہے کہ انسان اپنی تمام طاقتوں کو خدا کی طرف لگا دے"۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 301-302) پھر تقویٰ کے ہی حوالے سے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : اہل تقویٰ کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں۔یہ تقویٰ کی ایک شاخ ہے جس کے ذریعہ سے ہمیں ناجائز غضب کا مقابلہ کرنا ہے۔" تقویٰ کے ذریعہ سے ہمیں بلاوجہ غصہ جو آجاتا ہے یا بلا جہ کسی کا غصہ ہمارے پر ہو اس کا مقابلہ کرنا ہے۔" بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لیے آخری اور کڑی منزل غضب سے بچنا ہی ہے۔کسی کے غصے سے خود مغلوب الغضب نہ ہو جاؤ اور وہی حرکت خود نہ شروع کر دو فرمایا کہ " عجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے۔" تکبر اور غرور جو ہیں یہ بھی غصے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں " اور ایسا ہی کبھی خود غضب عجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے۔" تکبر و غرور ہو تو انسان کو غصہ آتا ہے۔کسی نے کچھ کہہ دیا تو ذراسی بات پر غصہ چڑھ گیا۔صرف وجہ یہی ہے کہ اس میں تکبر ہے فرمایا " کیونکہ غضب اس وقت ہو گا جب انسان اپنے نفس کو وسرے پر ترجیح دیتا ہے"۔فرمایا کہ " میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں۔کسی کو کم سمجھیں " خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔یہ ایک قسم کی تحقیر ہے جس کے اندر حقارت ہے۔ڈر ہے کہ یہ حقارت کا بیج بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جاوے۔" جو اپنے آپ کو کسی بھی لحاظ سے بڑا سمجھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دوسرے کی تحقیر کر رہا ہے اور دوسرے کو حقارت کی نظر سے دیکھ رہا ہے اور یہ حقارت سے دوسرے کو دیکھنا، فرمایا کہ ہلاکت کا باعث