خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 314 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 314

خطبات مسرور جلد 14 314 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 رکھے۔اس قیام کے دوران ان دنوں میں جو روزے رکھے ہوئے تھے۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام افطاری کے وقت تھال میں رکھ کر ٹرے میں شربت کے تین بڑے گلاس لائے اور ہم اس سے روزہ کھولنے لگے۔تو " میں نے عرض کیا کہ حضور منشی جی ہو ( منشی اروڑے خانصاحب) کو ایک گلاس میں کیا ہوتا ہے۔"سارا دن کا روزہ ہے ایک ایک گلاس آپ پانی کا لائے ہیں اس سے ان کا کیا بنے گا۔" حضرت " مسیح موعود علیہ السلام " مسکرائے اور جھٹ اندر تشریف لے گئے اور ایک بڑا لو ٹا شربت کا بھر کر لائے اور منشی جی کو پلایا۔منشی جی یہ سمجھ کر کہ حضرت اقدس کے ہاتھ سے شربت پی رہا ہوں پیتے رہے اور ختم کر دیا۔" اصحاب احمد جلد 4 صفحہ 224۔نیا ایڈیشن۔روایت حضرت منشی ظفر احمد صاحب) ایک بڑا جگ لے کر آئے وہ ختم کر دیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایک روایت تحریر کرتے ہیں کہ ملک مولا بخش صاحب پنشنر نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام رمضان شریف میں امر تسر میں تشریف لائے۔آپ کا لیکچر منڈوا ابو گھنیا لعل جس کا نام اب بندے ماترم پال ہے میں ہوا۔بوجہ سفر کے حضور کو روزہ نہ تھا۔لیکچر کے دوران مفتی فضل الرحمن صاحب نے چائے کی پیالی پیش کی۔حضور نے توجہ نہ فرمائی۔پھر وہ اور آگے ہوئے۔پھر بھی حضور مصروف لیکچر رہے۔پھر مفتی صاحب نے پیالی بالکل قریب کر دی تو حضور نے لے کر چائے پی لی۔اس پر لوگوں نے شور مچا دیا کہ یہ ہے رمضان شریف کا احترام۔روزے نہیں رکھتے اور بکو اس شروع کر دی۔لیکچر بند ہو گیا اور حضور پس پردہ ہو گئے۔پیچھے چلے گئے۔گاڑی دوسری طرف دروازے کے سامنے لائی گئی اور حضور اس میں داخل ہو گئے۔لوگوں نے اینٹ پتھر وغیر ہ مارنے شروع کئے اور بہت ہلڑ مچایا۔گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا مگر حضور بخیر و عافیت قیامگاہ پہنچ گئے۔یہ بیان کرتے ہیں کہ بعد میں سنا گیا کہ ایک غیر احمدی مولوی یہ کہتا تھا کہ آج لوکاں نے مرزے نوں نبی بنادیتا۔یہ میں نے خود ان کے منہ سے تو نہیں سنا۔پھر آگے بیان کرتے ہیں کہ حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب کے ساتھ ہم باہر نکلے۔تو اس وقت ان کی خدمت میں عرض کی کہ لوگ اینٹ پتھر مار رہے ہیں ابھی تک شور شرابا ہے۔ذرا ٹھہر جائیں۔تو حضرت خلیفہ اول نے فرمایا وہ گیا جسے مارتے تھے۔مجھے کون مارتا ہے۔چونکہ اس موقع پر مفتی فضل الرحمن صاحب کے چائے پیش کرنے پر یہ سب گڑ بڑ ہوئی تھی، یہ فساد پیدا ہوا تھا، لوگوں نے شور مچایا تھا اس لئے سب آدمی ان کو کہتے تھے کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔سب احمدی ان کے پیچھے پڑ گئے کہ تمہاری وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے۔روایت کرنے والے کہتے ہیں کہ میں نے بھی ان کو ایسا کہا۔وہ بیچارے تنگ آگئے اور کہتے ہیں بعد میں میاں عبد الخالق صاحب مرحوم احمدی نے مجھے بتایا کہ جب یہ معاملہ حضور کے سامنے پیش ہوا کہ مفتی صاحب نے خواہ مخواہ لیکچر خراب کر دیا تو حضور نے فرمایا مفتی صاحب نے کوئی برا کام نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ کا ایک حکم ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھا جائے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے فعل سے اس حکم کی اشاعت کا موقع پیدا کر دیا۔یہ جواب تھا