خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 313
خطبات مسرور جلد 14 313 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہو یا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمباہو بلکہ حکم عام ہے اور اس پر عمل کرنا چاہئے۔مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتویٰ لازم آئے گا۔" ( ملفوظات جلد 9 صفحہ 430-431) ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں رحمت اللہ صاحب ولد حضرت میاں عبد اللہ سنوری صاحب روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام لدھیانہ تشریف لائے۔رمضان شریف کا مہینہ تھا۔ہم سب غوث گڑھ سے ہی روزہ رکھ کر لدھیانہ گئے۔حضور نے والد صاحب مرحوم سے خود دریافت فرمایا یا کسی اور سے معلوم ہوا یہ مجھے یاد نہیں کہ یہ سب غوث گڑھ سے آنے والے روزہ دار ہیں۔حضور علیہ السلام نے فرمایا میاں عبد اللہ ! خدا کا حکم جیسا روزہ رکھنے کا ہے ویسا ہی سفر میں نہ رکھنے کا ہے۔آپ سب روزے افطار کر دیں۔ظہر کے بعد کا یہ ذکر ہے۔چنانچہ سب کے روزے کھلوا دیئے گئے۔(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 2 حصہ چہارم صفحہ 125 روایت نمبر (1159) پھر ایک اور روایت ہے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ تحریر فرمائی ہے کہ میاں عبد اللہ سنوری صاحب نے بیان کیا کہ " اوائل زمانہ کی بات ہے کہ ایک دفعہ رمضان کے مہینہ میں کوئی مہمان یہاں حضرت صاحب کے پاس آئے۔اسے اس وقت روزہ تھا اور دن کا زیادہ حصہ گذر چکا تھا بلکہ شاید عصر کے بعد کا وقت تھا۔حضرت صاحب نے اسے فرمایا آپ روزہ کھول دیں۔اس نے عرض کیا کہ اب تھوڑا سا دن رہ گیا ہے اب کیا کھولنا ہے۔حضور نے فرمایا کہ آپ سینہ زوری سے خدا تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔خد اتعالیٰ سینہ زوری سے نہیں بلکہ فرمانبرداری سے راضی ہوتا ہے۔جب اس نے یہ فرما دیا ہے کہ مسافر روزہ نہ رکھیں تو نہیں رکھنا چاہئے۔اس پر اس نے روزہ کھول دیا۔" (سیرت المہدی جلد اول حصہ اول صفحه 97 روایت نمبر 117) اسی طرح حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی تحریر کرتے ہیں کہ " ایک مرتبہ میں اور حضرت منشی اروڑے خان صاحب اور حضرت خاں صاحب محمد خاں صاحب لدھیانہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔رمضان کا مہینہ تھا میں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور میرے صحابہ نے نہیں رکھا تھا۔جب ہم حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تو تھوڑا سا وقت غروب آفتاب میں باقی تھا۔" سورج ڈوبنے والا تھا۔" حضرت کو انہوں نے کہا کہ ظفر احمد نے روزہ رکھا ہوا ہے۔حضرت " مسیح موعود علیہ السلام " فوراً اندر تشریف لے گئے اور شربت کا ایک گلاس لے کر آئے اور فرمایا روزہ کھول دو۔سفر میں روزہ نہیں چاہئے۔میں نے تعمیل ارشاد کی اور اس کے بعد بوجہ مقیم ہونے کے ہم " وہاں کچھ دن ٹھہر نا تھا " روزہ رکھنے لگے۔افطاری کے وقت حضرت اقدس خود تین گلاس ایک بڑے تھال میں رکھ کر لائے۔ہم روزہ کھولنے لگے۔" کیونکہ بعد کے دنوں میں وہاں قیام تھا اس لئے پھر انہوں نے روزے