خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 312 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 312

خطبات مسرور جلد 14 312 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 معصیت ہے۔گناہ ہے۔کیونکہ غرض تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے نہ اپنی مرضی اور اللہ تعالیٰ کی رضا فرمانبرداری میں ہے۔جو حکم وہ دے اس کی اطاعت کی جاوے اور اپنی طرف سے اس پر حاشیہ نہ چڑھایا جاوے۔اس نے تو یہی حکم دیا ہے کہ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ۔اس میں کوئی قید اور نہیں لگائی کہ ایسا سفر ہو یا ایسی بیماری ہو۔میں سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھتا اور ایسا ہی بیماری کی حالت میں۔چنانچہ آج بھی میری طبیعت اچھی نہیں تو میں نے روزہ نہیں رکھا۔چلنے پھرنے سے بیماری میں کچھ کمی ہوتی ہے اس لئے باہر جاؤں گا۔ان مہمان سے پوچھا کیا آپ بھی چلیں گے ؟ بابا چیٹو نے کہا نہیں، میں تو نہیں جا سکتا۔آپ ہو آئیں۔یہ حکم تو بیشک ہے مگر سفر میں کوئی تکلیف نہیں پھر کیوں روزہ نہ رکھا جاوے۔حضرت اقدس نے فرمایا یہ تو آپ کی اپنی رائے ہے۔قرآن شریف نے تو تکلیف یا عدم تکلیف کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔اب آپ بہت بوڑھے ہو گئے ہیں۔زندگی کا اعتبار کچھ نہیں۔انسان کو وہ راہ اختیار کرنی چاہئے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جاوے اور صراط مل جاوے۔اس پر باباصاحب نے کہا کہ میں تو اسی لئے آیا ہوں کہ آپ سے کچھ فائدہ اٹھاؤں۔اگر یہی راہ سچی ہے تو ایسا نہ ہو کہ ہم غفلت ہی میں مر جاویں۔حضرت اقدس نے فرمایا: ہاں یہ بہت عمدہ بات ہے۔پھر فرمایا کہ میں تھوڑی دور ہو آؤں۔آپ آرام کریں۔(ماخوذ از الحکم مورخہ 31 جنوری 1907ء صفحہ 14 جلد 11 نمبر 4) بیمار اور مسافر کے روزہ رکھنے کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں ہوا۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے پھر وہی قول بیان فرمایا کہ " شیخ ابن عربی کا قول ہے کہ اگر بیمار یا مسافر روزہ کے دنوں میں روزہ رکھ لے تو پھر بھی اسے صحت پانے پر ماہ رمضان کے گذرنے کے بعد روزہ رکھنا فرض ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ (البقرة: 185)۔جو تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو وہ ماہ رمضان کے بعد کے دنوں میں روزے رکھے۔اس میں خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو مریض یا مسافر اپنی ضد سے یا اپنے دل کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے انہی ایام میں روزے رکھے تو پھر بعد میں رکھنے کی اس کو ضرورت نہیں۔خدا تعالیٰ کا صریح حکم یہ ہے کہ وہ بعد میں روزے رکھے۔بعد کے روزے اس پر بہر حال فرض ہیں۔درمیان کے روزے اگر وہ رکھے تو یہ امر زائد ہے اور اس کے دل کی خواہش ہے۔اس سے خدا تعالیٰ کا وہ حکم جو بعد میں رکھنے کے متعلق ہے ٹل نہیں سکتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ رمضان میں روزے رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔مرض سے صحت پانے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے۔خدا تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرنا چاہئے کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کا زور دکھا کر کوئی نجات حاصل کر سکتا ہے۔" زور سے نجات نہیں حاصل کی جاسکتی۔فرمایا کہ " خدا تعالیٰ نے