خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 311
خطبات مسرور جلد 14 311 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 ہے۔اس لئے یہاں روزہ رکھنا آپ ہی کے فتویٰ کے مطابق ہوا۔گو اس کی اور بھی وجوہات ہیں۔" (الفضل 4 جنوری 1934ء صفحہ 3-4 جلد 21 نمبر 80) قیام کے دوران روزوں کے بارے میں " حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں: روزوں کی بابت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص نے ایک جگہ پر تین دن سے زائد اقامت کرنی ہو تو پھر وہ روزے رکھے اور اگر تین دن سے کم اقامت کرنی ہو تو روزے نہ رکھے اور اگر قادیان میں کم دن ٹھہر نے کے باوجو د روزے رکھ لے تو پھر روزے دوبارہ رکھنے کی ضرورت نہیں۔" (فتاویٰ حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب رجسٹر نمبر 5 دار الافتاء ربوہ بحوالہ فقہ المسیح صفحہ 208 باب روزہ اور رمضان) کیونکہ قادیان وطن ثانی ہے اس میں تین دن سے کم وقت میں بھی اگر رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے لیکن باقی جگہوں پر تین دن اگر قیام ہے تو روزے رکھ سکتا ہے۔مسافر اور مریض روزہ نہ رکھیں۔اس بارے میں ایک روایت ہے کہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام یہ معلوم کر کے کہ لاہور سے ایک شخص شیخ محمد چٹو صاحب آئے ہیں اور دوسرے احباب بھی آئے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے خُلق عظیم کی بناء پر باہر نکلے۔غرض یہ تھی کہ باہر سیر کو نکلیں گے۔احباب سے ملاقات کی تقریب ہو جائے گی۔جو لوگ آئے ہیں ان سے ملاقات ہو جائے گی۔دوسرے لوگوں کو بھی پتا لگ گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر تشریف لائیں گے اس لئے بہت سارے لوگ چھوٹی مسجد میں مسجد مبارک میں موجود تھے۔جب حضرت اقدس اپنے دروازے سے باہر آئے تو معمول کے موافق خدام پروانہ وار آپ کی طرف دوڑے۔آپ نے شیخ صاحب کی طرف دیکھ کر بعد سلام مسنون خیریت پوچھی کہ آپ اچھی طرح سے ہیں ؟ پرانے ملنے والوں میں سے ہیں۔اور انہوں نے بابا چٹو جو آئے تھے انہوں نے کہا کہ بڑا شکر ہے۔حضرت اقدس نے حکیم محمد حسین قریشی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ آپ کا فرض ہے کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ان کے کھانے ٹھہرنے کا پورا انتظام کر دو۔جس چیز کی ضرورت ہو مجھ سے کہو اور میاں نجم الدین کو تاکید کر دو کہ ان کے کھانے کے لئے جو مناسب ہو اور پسند کریں وہ تیار کریں۔حکیم صاحب نے کہا بہت اچھا۔انشاء اللہ تکلیف نہیں ہو گی۔اور پھر حضرت اقدس نے ان مہمان سے پوچھا کہ آپ نے روزہ تو نہیں رکھا ہوا۔انہوں نے کہا مجھے تو روزہ ہے میں نے رکھ لیا ہے۔یہ احمدی نہیں تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے۔خدا تعالیٰ نے مسافر و بیمار کو دوسرے وقت رکھنے کی اجازت ورخصت دی ہے۔اس لئے اس حکم پر بھی تو عمل رکھنا چاہئے۔آپ نے فرمایا میں نے پڑھا ہے کہ اکثر اکابر اس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی حالت سفر یا بیماری میں روزہ رکھتا ہے تو یہ