خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 310 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 310

خطبات مسرور جلد 14 310 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 اور گفتگو ہوئی جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے سمجھا کہ شاید کسی کو ٹھو کر لگ جائے۔اس لئے آپ نے ابن عربی کا ایک حوالہ دوسرے دن تلاش کر کے لائے کہ وہ بھی یہی کہتے ہیں۔" حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں" اس واقعہ کا مجھ پر یہ اثر تھا کہ میں سفر میں روزہ رکھنے سے روکتا تھا۔اتفاق ایسا ہوا کہ ایک رمضان میں مولوی عبد اللہ صاحب سنوری یہاں رمضان گزارنے کے لئے آئے تو انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ باہر سے آنے والوں کو روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں۔مگر میری روایت ہے کہ یہاں ایک صاحب آئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کیا کہ مجھے یہاں ٹھیر نا ہے اس دوران میں میں روزے رکھوں یا نہ رکھوں " پہلے دو واقعات بھی گذر چکے ہیں کہ مسافر قادیان میں آکے روزے رکھتے رہے تھے۔" اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں آپ روزے رکھ سکتے ہیں کیونکہ قادیان احمدیوں کے لئے وطن ثانی ہے۔"حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں "گو مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے مقرب تھے مگر میں نے صرف ان کی روایت کو قبول نہ کیا۔اور لوگوں کی بھی اس بارے میں شہادت کی تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قادیان کی رہائش کے ایام میں روزہ رکھنے کی اجازت دیتے تھے۔البتہ آنے اور جانے کے دن روزہ رکھنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔اس وجہ سے مجھے پہلا خیال بدلنا پڑا۔پھر جب اس دفعہ رمضان میں سالانہ جلسہ آنے والا تھا اور سوال اٹھا کہ آنے والوں کو روزہ رکھنا چاہئے یا نہیں تو ایک صاحب نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جب جلسہ رمضان میں آیا تو ہم نے خود مہمانوں کو سحری کھلائی تھی۔ان حالات میں جب میں نے یہاں جلسہ پر آنے والوں کو روزہ رکھنے کی اجازت دی تو یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی فتویٰ ہے۔پہلے علماء تو سفر میں روزہ رکھنا بھی جائز قرار دیتے رہے ہیں اور آجکل کے سفر کو تو غیر احمدی مولوی سفر ہی نہیں قرار دیتے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سفر میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔پھر آپ نے ہی یہ بھی فرمایا کہ یہاں قادیان میں آکے روزہ رکھنا جائز ہے۔اب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم آپ کا ایک فتویٰ تو لے لیں اور دوسرا چھوڑ دیں۔اس طرح تو وہی بات بن جاتی ہے جو کسی پٹھان کے متعلق مشہور ہے۔پٹھان فقہ کے بہت پابند ہوتے ہیں۔ایک پٹھان طالبعلم تھا جس نے فقہ میں پڑھا تھا کہ نماز حرکت کبیرہ سے ٹوٹ جاتی ہے۔جب اس نے حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے متعلق پڑھا کہ آپ نے ایک دفعہ حرکت کی تو کہنے لگا اوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نماز ٹوٹ گیا کیونکہ قدوری میں لکھا ہے کہ حرکت کبیرہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔غرض یہ پٹھان یا جو بھی شخص ان مولویوں کے پڑھے ہوئے ہیں وہ اُلٹے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوے دینے لگ گئے۔تو آپ فرماتے ہیں " غرض جس نے یہ فتویٰ دیا کہ سفر میں روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔اسی نے یہ بھی فرمایا کہ قادیان احمدیوں کا وطن ثانی ہے یہاں روزہ رکھنا جائز