خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 309 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 309

خطبات مسرور جلد 14 309 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 اب ایک طرف حکم ہے کہ سحری کھاؤ اس میں برکت ہے۔افطاری کرو اس میں برکت ہے۔لیکن دوسری طرف اگر صرف کھانا ہی مقصد ہو تو ایک یہ چیز اس برکت کو کم بھی کر دیتی ہے۔پس اعتدال ضروری ہے۔اچھا کھاؤ لیکن اعتدال کے ساتھ۔سفر اور بیماری میں روزہ جائز نہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ فرماتے ہیں " مجھے خوب یاد ہے کہ غالب مر زا یعقوب بیگ صاحب جو آجکل غیر مبائع ہیں اور ان کے لیڈروں میں سے ہیں ایک دفعہ باہر سے آئے۔عصر کا وقت تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے زور دیا کہ روزہ کھول دیں اور فرمایا سفر میں روزہ جائز نہیں۔اسی طرح ایک دفعہ بیماریوں کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا۔ہمارا یہی مذہب ہے کہ رخصتوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔دین سختی نہیں بلکہ آسانی سکھاتا ہے۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے " وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ بیمار اور مسافر اگر روزہ رکھ سکے تو رکھ لے ہم اُسے درست نہیں سمجھتے۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے محی الدین ابن عربی کا قول بیان کیا کہ سفر اور بیماری میں روزہ رکھنا آپ جائز نہیں سمجھتے تھے اور ان کے نزدیک ایسی حالت میں رکھا ہو اروزہ دوبارہ رکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ سن کر فرمایا ہاں ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے۔" (خطبات محمود جلد 13 صفحہ 37) حضرت مصلح موعودؓ نے ایک اور موقع پر فرمایا جبکہ آپ خطاب فرمارہے تھے کہ مجھے ایک سوال پیش کیا گیا ہے اور وہ یہ " ہے " کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے روزہ کے متعلق یہ فتویٰ دیا ہے کہ " مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتویٰ لازم آئے گا؟ اور حضرت مصلح موعودؓ کو انہوں نے کہا ہے کہ " الفضل میں میرا یہ اعلان " آپ کی طرف سے " شائع کیا گیا ہے کہ احمدی احباب جو سالانہ جلسے پر آئیں وہ یہاں آکر روزے رکھ سکتے ہیں۔" جلسہ سالانہ کے دنوں میں رمضان آگیا تھا اور جلسہ انہی دنوں میں ہوا لیکن جنہوں نے روزے رکھنے تھے وہ روزے بھی رکھتے رہے۔مگر جو نہ رکھیں اور بعد میں رکھیں ان پر بھی کوئی اعتراض نہیں ؟" یہ اعلان شائع ہوا ہے۔" اس کے متعلق " حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اول تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میرا کوئی فتویٰ الفضل میں شائع نہیں ہوا۔ہاں ایک فتویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا میری روایت سے چھپا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ زمانہ خلافت کے پہلے ایام میں سفر میں روزہ رکھنے سے میں منع کیا کرتا تھا کیونکہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو دیکھا تھا کہ آپ مسافر کو روزہ رکھنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ مرزا ایوب بیگ صاحب رمضان میں آئے اور انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن عصر کے وقت جبکہ وہ آئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کہہ کر روزہ گھلا دیا کہ سفر میں روزہ رکھنا ناجائز ہے۔اس پر اتنی لمبی بحث