خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 308 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 308

خطبات مسرور جلد 14 308 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 بیشک اچھا کھانا تو کھائیں لیکن اس میں بھی اعتدال ہونا چاہئے۔روزہ رکھ کر یہ احساس بھی ہونا چاہئے کہ ہم نے روزہ رکھنا ہے اور رکھا ہے۔چنانچہ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْر۔ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ تم ایمان لاؤ اور پھر تنگیوں میں بسر کرو۔اس لئے ہم نے روزے فرض کئے۔اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے تا تمہاری تنگیاں دُور ہوں۔یہ ایسا نکتہ ہے جو مومن کو مومن بناتا ہے۔یہ نکتہ بڑایا درکھنے والا ہے کہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے، تنگی نہیں چاہتا۔اور اس کی وضاحت کیا ہے۔یہ ایسا نکتہ ہے جو مومن کو مومن بناتا ہے اور جو یہ ہے کہ روزے میں بھوکا رہنا یا دین کے لئے قربانی کرنا انسان کے لئے کسی نقصان کا موجب نہیں بلکہ سر اسر فائدے کا باعث ہے۔جو یہ خیال کرتا ہے کہ رمضان میں انسان بھوکا رہتا ہے وہ قرآن کی تکذیب کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم بھوکے تھے ہم نے رمضان مقرر کیا تا تم روٹی کھاؤ۔پس معلوم ہوا کہ روٹی یہی ہے جو خدا تعالیٰ کھلاتا ہے اور اصل زندگی اسی سے ہے۔اس کے سوا جو روٹی ہے وہ روٹی نہیں پتھر ہیں جو کھانے والے کے لئے ہلاکت کا موجب ہیں۔مومن کا فرض ہے کہ جو لقمہ اس کے منہ میں جائے اس کے متعلق پہلے دیکھے کہ وہ کس کے لئے ہے۔اگر تو وہ خدا کے لئے ہے تو وہی روٹی ہے اور اگر نفس کے لئے ہے تو وہ روٹی نہیں۔پس سحری اگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے کھائی جارہی ہے تو اگر اچھی بھی کھائی جارہی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ہے اور وہ جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں برکت ہے۔اور پھر اگر پیٹ بھرنا ہے اور اچھی خوراک کھانا ہے اور مزہ لینا ہے تو پھر وہ نفس کے لئے ہے۔پھر آگے حضرت مصلح موعودؓ نے وضاحت کی ہے کہ جو کپڑا خدا کے لئے پہنا جائے وہی لباس ہے۔جو نفس کے لئے پہنا جاتا ہے وہ نگا ہے۔دیکھو کیسے لطیف پیرائے میں بتایا کہ جب تک خدا کے لئے تکالیف اور مصائب برداشت نہ کرو تم سہولت نہیں اٹھا سکتے۔اس سے ان لوگوں کے خیال کا بھی ابطال ہو جاتا ہے جو بقول حضرت مسیح موعود علیہ السلام رمضان کو موٹے ہونے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔بعض لوگ ایسے ہیں جن کے وزن رمضان میں کم ہونے کے بجائے بڑھ جاتے ہیں۔حضور علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ بعض لوگوں کے لئے تو رمضان ایسا ہی ہوتا ہے جیسے گھوڑے کے لئے خوید۔یعنی گندم اور جو کی اچھی اعلیٰ خوراک ہوتی ہے۔وہ لوگ جو ہیں ان دنوں میں خوب گھی، مٹھائیاں اور مرغن اغذیہ کھاتے ہیں اور اسی طرح موٹے ہو کر نکلتے ہیں جس طرح خوید کے بعد گھوڑا۔یہ چیز بھی رمضان کی برکت کو کم کرنے والی ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 2 صفحه 395-396)