خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 307 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 307

خطبات مسرور جلد 14 307 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 گزشتہ سال ایک دوست کو میں نے کہا تھا کہ آپ زیادہ دیر تک سحری کھاتے رہتے ہیں۔اس بات پر انہوں نے شاید میری بات سن کے دوبارہ روزے رکھ لئے۔لیکن اگر یہ وقت جو تھا اس وقت سے آگے نہیں لے کر گئے تھے پھر تو ٹھیک ہے۔روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں تھا۔اور اب بھی ہر ایک جائزہ لے سکتا ہے۔یہاں تو اذانیں نہیں ہو تیں۔صبح صادق کو دیکھنا ضروری ہے۔جب پو پھٹتی ہے یعنی جب دھاری نمودار ہوتی ہے تو اس وقت تک سحری کھائی جاسکتی ہے۔سحری پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی کی ایک اور مثال بھی ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ " اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا" ہے " کہ 1903ء کا ذکر ہے کہ میں اور ڈاکٹر صاحب مرحوم رڑکی سے آئے۔چار دن کی رخصت تھی۔حضور نے پوچھا " کہ "سفر میں تو روزہ نہیں تھا ؟ " ہم نے کہا نہیں۔حضور نے ہمیں گلابی کمرہ رہنے کو دیا۔ڈاکٹر صاحب نے کہا ہم روزہ رکھیں گے۔آپ نے فرمایا " بہت اچھا!" پھر فرمایا کہ " بہت اچھا آپ سفر میں ہیں۔" ڈاکٹر صاحب نے کہا حضور ! چند روز قیام کرنا ہے۔دل چاہتا ہے روزہ رکھوں۔آپ نے فرمایا کہ " اچھا! ہم آپ کو کشمیری پر اٹھے کھلائیں گے۔" ہم نے خیال کیا کہ کشمیری پر اٹھے خدا جانے کیسے ہوں گے ؟ جب سحری کا وقت ہوا اور ہم تہجد اور نوافل سے فارغ ہوئے اور کھانا آیا تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود گلابی کمرے میں تشریف لائے (جو کہ مکان کی نچلی منزل میں تھا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مکان کے اوپر والی تیسری منزل پر رہا کرتے تھے۔ان کی بڑی اہلیہ کریم بی بی صاحبہ جن کو مولویانی کہا کرتے تھے کشمیری تھیں اور پر اٹھے اچھے پکایا کرتی تھیں۔حضور نے یہ پر اٹھے ان سے ہمارے واسطے پکوائے تھے۔پراٹھے گرما گرم اوپر سے آتے تھے اور حضور علیہ السلام خود لے کر ہمارے آگے رکھتے تھے اور فرماتے تھے۔" اچھی طرح کھاؤ۔" مجھے تو شرم آتی تھی اور ڈاکٹر صاحب بھی شر مسار تھے مگر ہمارے دلوں پر جو اثر حضور کی شفقت اور عنایت کا تھا اس سے روئیں، روئیں میں خوشی کا لرزہ پیدا ہو رہا تھا۔اتنے میں اذان ہو گئی تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ " اور کھاؤ۔ابھی بہت وقت ہے۔فرمایا قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ (البقرة : 188)۔اس پر لوگ عمل نہیں کرتے۔آپ کھائیں ابھی بہت وقت ہے مؤذن نے وقت سے پہلے اذان دے دی ہے۔" پھر کہتی ہیں " جب تک ہم کھاتے رہے حضور کھڑے رہے اور ٹہلتے رہے۔ہر چند ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا کہ حضور تشریف رکھیں میں خود خادمہ سے پر اٹھے پکڑ لوں گا یا میری بیوی لے لیں گی مگر حضور نے نہ مانا اور ہماری خاطر تواضع میں لگے رہے۔اس کھانے میں عمدہ سالن " بھی تھا " اور دودھ سوتیاں وغیرہ کھانے بھی تھے۔" (سیرۃ المہدی جلد 2 حصہ پنجم صفحہ 202-203 روایت نمبر 1320)