خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 306
خطبات مسرور جلد 14 306 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 سے معلوم کرو کہ ان کو کیا کیا کھانے کی عادت ہے اور وہ سحری کو کیا کیا چیز پسند کرتے ہیں۔ویسا ہی کھانا ان کے لئے تیار کیا جائے۔پھر منتظم میرے لئے اور کھانا لا یا مگر میں کھا چکا تھا اور اذان بھی ہو گئی تھی۔حضور نے فرمایا کھالو۔اذان جلد دی گئی ہے۔اس کا خیال نہ کرو۔" (سیرت المہدی جلد 2 حصہ چہارم صفحہ 127 روایت نمبر 1163) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ نماز تہجد پڑھنا اور سحری کھانے کے بارے میں ایک روایت بیان فرماتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ " ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ 1895ء میں مجھے تمام ماہ رمضان قادیان میں گزارنے کا اتفاق ہوا اور میں نے تمام مہینہ حضرت صاحب کے پیچھے نماز تہجد یعنی تراویح ادا کی۔آپ کی یہ عادت تھی کہ وتر اول شب میں پڑھ لیتے تھے اور نماز تہجد آٹھ رکعت دو دور کعت کر کے آخر شب میں ادا فرماتے تھے جس میں آپ ہمیشہ پہلی رکعت میں آیت الکرسی تلاوت فرماتے تھے۔یعنی اللہ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوءَ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظیم تک۔اور دوسری رکعت میں سورۃ اخلاص کی قراءت فرماتے تھے اور رکوع و سجود میں يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحمتك استغيث اکثر پڑھتے تھے اور ایسی آواز سے پڑھتے تھے کہ آپ کی آواز میں سن سکتا تھا۔نیز آپ ہمیشہ سحری نماز تہجد کے بعد کھاتے تھے اور اس میں اتنی تاخیر فرماتے تھے کہ بعض دفعہ کھاتے کھاتے اذان ہو جاتی تھی اور آپ بعض اوقات اذان کے ختم ہونے تک کھانا کھاتے رہتے تھے۔" حضرت میاں بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ "خاکسار عرض کرتا ہے کہ دراصل مسئلہ تو یہ ہے کہ جب تک صبح صادق افق مشرق سے نمودار نہ ہو جائے سحری کھانا جائز ہے۔اذان کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔کیونکہ صبح کی اذان کا وقت بھی صبح صادق کے ظاہر ہونے پر مقرر ہے۔اس لئے لوگ عموماً " بعض جگہوں پہ سحری کی حد اذان ہونے کو سمجھ لیتے ہیں۔قادیان میں چونکہ صبح اذان صبح صادق کے پھوٹتے ہی ہو جاتی ہو بلکہ ممکن ہے کہ بعض اوقات غلطی اور بے احتیاطی سے اس سے بھی قبل ہو جاتی ہو۔اس لئے ایسے موقعوں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اذان کا چنداں خیال نہ فرماتے تھے اور صبح صادق کے تبین تک سحری کھاتے رہتے تھے اور دراصل شریعت کا منشاء بھی اس معاملے میں یہ نہیں ہے کہ جب علمی اور حسابی طور پر صبح صادق کا آغاز ہو اس کے ساتھ ہی کھانا ترک کر دیا جاوے بلکہ منشاء یہ ہے کہ جب عام لوگوں کی نظر میں صبح " صادق" کی سفیدی ظاہر ہو جاوے اس وقت کھانا چھوڑ دیا جاوے۔چنانچہ تبیین کا لفظ اسی بات کو ظاہر کر رہا ہے۔حدیث میں بھی آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال کی اذان پر سحری نہ چھوڑا کرو بلکہ ابن مکتوم کی اذان تک بیشک کھاتے پیتے رہا کرو کیونکہ ابن مکتوم نابینا تھے اور جب تک لوگوں میں شور نہ پڑ جاتا تھا کہ صبح ہو گئی ہے، صبح ہو گئی۔اس وقت تک اذان نہ دیتے تھے۔" (سیرۃ المہدی جلد اول حصہ دوم روایت نمبر 320 صفحہ 295-296)