خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 8

خطبات مسرور جلد 14 8 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 آنحضرت کی شجاعت ظاہر ہو جبکہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کے مقابلہ میں اکیلے کھڑے ہو گئے کہ میں اللہ تعالیٰ کار سول ہوں۔ایسا نمونہ دکھانے کا کسی نبی کو موقع نہیں ملا۔" فرمایا کہ "ہم اپنی جماعت کو کہتے ہیں کہ صرف اتنے پر وہ مغرور نہ ہو جائے کہ ہم نماز روزہ کرتے ہیں یا موٹے موٹے جرائم مثلاً زنا، چوری وغیرہ نہیں کرتے۔" فرمایا کہ " ان خوبیوں میں تو اکثر غیر فرقہ کے لوگ مشرک وغیرہ تمہارے ساتھ شامل ہیں۔" مشرک بھی بہت سارے ایسے ہیں جو ایسی نیکیاں کرتے ہیں ان کے اخلاق بہت اچھے ہیں۔فرمایا کہ " تقویٰ کا مضمون باریک ہے اس کو حاصل کرو۔خدا کی عظمت دل میں بٹھاؤ۔جس کے اعمال میں کچھ بھی ریاکاری ہو خدا اس کے عمل کو واپس الٹا اس کے منہ پر مارتا ہے۔متقی ہونا مشکل ہے۔مثلاً اگر کوئی تجھے کہے " مثال دے رہے ہیں آپ " کہ تو نے قلم چرایا ہے تو تو کیوں غصہ کرتا ہے۔"اگر کسی پہ کوئی جھوٹا الزام لگا دیتا ہے مثلاً چھوٹا سا الزام ہی ہے کہ میں نے یہاں قلم رکھا تم نے اس کو اٹھا لیا اس پر دوسرے کو غصہ آجاتا ہے۔فرمایا کیوں، غصے کی کیا ضرورت ہے۔فرمایا کہ " تیر اپر ہیز تو محض خدا کے لئے ہے"۔اس چیز پر غصے سے بچنا تو خدا کے لئے ہے۔"یہ طیش اس واسطے ہوا که رو بحق نہ تھا۔" جو غصہ تمہیں آیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے تمہارا تعلق نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ کے چہرے کو نہیں دیکھ رہے تھے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کو نہیں چاہتے تھے۔اس لئے بعض لوگوں کو ذراذراسی بات پر غصہ آجاتا ہے۔اگر اللہ سامنے یادر ہے تو کبھی غصہ نہ آئے۔فرمایا جب تک واقعی طور پر انسان پر بہت سی موتیں نہ آجائیں وہ متقی نہیں بنتا۔معجزات اور الہامات بھی تقویٰ کی فرع ہیں۔اصل تقویٰ ہے۔" اس چیز کو یاد رکھو۔فرمایا کہ اس واسطے تم الہامات اور رؤیا کے پیچھے نہ پڑو "کسی کو الہام ہو گیا، کسی کو رؤیا ہوا، کوئی سچی خوا میں آگئیں، کشف ہو گیا بلکہ حصول تقویٰ کے پیچھے لگو۔" یہ نہ دیکھو کہ کس کو کیا سچی خوا ہیں آ رہی ہیں کہ نہیں آرہیں۔یہ دیکھو کہ تقویٰ ہے کہ نہیں۔" جو متقی ہے اسی کے الہامات بھی صحیح ہیں اور اگر تقویٰ نہیں تو الہامات بھی قابل اعتبار نہیں۔" جتنے مرضی کوئی الہام سنا تا ر ہے۔اگر اس میں تقویٰ نہیں ہے، لوگوں کے حق مار رہا ہے، ذراذراسی بات پر غصہ میں آجاتا ہے تو وہ چاہے جتنی مرضی سچی خواہیں سنائے کوئی سچی خواب نہیں۔فرمایا کہ " ان میں شیطان کا حصہ ہو سکتا ہے۔کسی کے تقویٰ کو اس کے ملہم ہونے سے نہ پہچانو بلکہ اس کے الہاموں کو اس کی حالت تقویٰ سے جانچو اور اندازہ کرو۔سب طرف سے آنکھیں بند کر کے پہلے تقویٰ کے منازل کو طے کرو۔انبیاء کے نمونہ کو قائم رکھو۔جتنے نبی آئے سب کا مدعا یہی تھا کہ تقویٰ کی راہ سکھلائیں۔اِن اَولِيَاؤُنَ إِلَّا الْمُتَّقُونَ (الانفال: 35)" اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے حقیقی والی جو ہیں وہ متقیوں کے علاوہ اور کوئی نہیں۔"مگر قرآن شریف نے تقویٰ کی باریک راہوں کو سکھلایا ہے۔کمال نبی کا کمالِ اُمت کو چاہتا ہے۔نبی کا کمال اس کی اُمت کے کمال کو چاہتا ہے۔فرمایا کہ " چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تھے۔صلی اللہ علیہ وسلم۔اس لئے آنحضرت