خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 304 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 304

خطبات مسرور جلد 14 304 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 جاسکتا ہے۔ضروری نہیں کہ جو ایک چارٹ بن گیا ہے اس کے مطابق ہی رمضان شروع ہو۔لیکن واضح طور پر چاند نظر آنا چاہئے۔اس کی رؤیت ضروری ہے۔لیکن یہ کہنا کہ ہم ضرور غیر احمدی مسلمانوں کے اعلان پر بغیر چاند دیکھے روزے شروع کر دیں اور عید کر لیں یہ چیز غلط ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کو اپنی ایک کتاب سرمہ چشم آریہ میں بھی بیان فرمایا۔حساب کتاب کو یا اندازے کو رڈ نہیں فرمایا۔یہ بھی ایک سائنسی علم ہے لیکن رؤیت کی فوقیت بیان فرمائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : "خدائے تعالیٰ نے احکام دین سہل و آسان کرنے کی غرض سے عوام الناس کو صاف اور سیدھا راہ بتلایا ہے اور ناحق کی دقتوں اور پیچیدہ باتوں میں نہیں ڈالا۔مثلاً روزہ رکھنے کے لئے یہ حکم نہیں دیا کہ تم جب تک قواعد ظفیہ نجوم کے رو سے یہ معلوم نہ کرو کہ چاند انیس کا ہو گا یا تیں کا۔تب تک رؤیت کا ہر گز اعتبار نہ کرو۔" یعنی جو قواعد سائنسدانوں کی طرف سے اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں۔جو فلکیات کا یا ستاروں کا علم رکھتے ہیں انہوں نے جو قواعد بنائے ہیں ضروری نہیں کہ ان قواعد کی پابندی کی جائے اور اگر ان کے اندازے یہ کہتے ہیں کہ چاند انیس کا ہو گا یا تمیں کا تو اس کے مطابق عمل کرو اور چاند کو دیکھنے کی کوشش نہ کرو۔رؤیت کا ہر گز اعتبار نہ کرو یہ غلط ہے۔آپ نے فرمایا کہ جب تک یہ نہیں ہو تا رؤیت کا ہر گز اعتبار نہ کرو اور آنکھیں بند رکھو کیونکہ ظاہر ہے کہ خواہ نخواہ اعمال دقیقہ نجوم کو عوام الناس کے گلے کا ہار بنانا یہ ناحق کا حرج اور تکلیف مالا طاق ہے۔" بلاوجہ اسی بات پر عمل کرنا کہ کیونکہ ہمیں اندازے یہ بتارہے ہیں اس لئے اس کے علاوہ ہم اور کچھ نہیں کریں گے یہ بلاوجہ کی ایک تکلیف ہے۔فرمایا کہ " اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ایسے حسابوں کے لگانے میں بہت سی غلطیاں واقع ہوتی رہتی ہیں۔سو یہ بڑی سیدھی بات " ہے " اور عوام کے مناسب حال ہے کہ وہ لوگ محتاج منجم و ہیئت دان نہ رہیں " یعنی صرف ستاروں اور اجرام فلکی کا علم رکھنے والوں کے محتاج نہ رہیں" اور چاند کے معلوم کرنے میں کہ کس تاریخ نکلتا ہے اپنی رؤیت پر مدار رکھیں۔صرف علمی طور پر اتنا سمجھ رکھیں کہ تیس کے عدد سے تجاوز نہ کریں۔"چاند کو دیکھنا ضروری ہے۔اگر دیکھنے کی کوشش کی جائے اور نظر نہ آئے تو پھر جو حساب کتاب ہے اس پر بھی انحصار کیا جاسکتا ہے اور اس بات پر بھی انحصار ہو کہ تیس دن سے زیادہ اوپر نہ جائیں۔اور فرمایا کہ " اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حقیقت میں عند العقل رؤیت کو قیاسات ریاضیہ پر فوقیت ہے۔"عقل بھی یہ کہتی ہے کہ جو آنکھوں سے دیکھنا ہے اس کو صرف حسابی اندازے جو ہیں ان اندازوں پر بہر حال فوقیت ہے۔فرمایا کہ " آخر حکمائے یورپ نے بھی جب رؤیت کو زیادہ تر معتبر سمجھا تو اس نیک خیال کی وجہ سے بتائید قوت باصرہ طرح طرح کے آلات دور بینی و خوردبینی ایجاد کئے۔" سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 192-193)