خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 303
خطبات مسرور جلد 14 303 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 بعض سوال اٹھاتے ہیں۔اسی طرح بعض غیر مذاہب سے آنے والے بالکل ہی بعض چیزوں کا علم نہیں رکھتے بلکہ ان کو علم ہوتا ہی نہیں وہ تو نئے طور پر سیکھ رہے ہوتے ہیں۔اس لئے ان کے لئے اسلام کے بنیادی جو رکن ہیں ان کے مسائل کا علم ہو نا ضروری ہے۔اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا ہے اور حکم اور عدل بنا کر بھیجا ہے جنہوں نے اسلام کی تعلیم پر بنیادرکھتے ہوئے ہر معاملے کا فیصلہ کرنا تھا اور کیا اور ہر مسئلے کا حل بتانا تھا اور بتایا۔پس اس لحاظ سے اس زمانے میں ہمیں اپنے مسائل کا حل اور علم میں اضافے کے لئے آپ علیہ السلام کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔اس وقت روزوں کے حوالے سے جیسا کہ میں نے کہا سوال اٹھتے رہتے ہیں بعض سوالوں کے جواب یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ان کے بارے میں کیا موقف تھا یا کیا آپ نے حکم فرمایا۔کیا آپ کا فتویٰ تھا۔ان کے بارے میں بیان کروں گا۔ہمیں یادر کھنا چاہئے کہ اس زمانے میں شرعی احکامات کے بارے میں آپ علیہ السلام کا حکم یا نظریہ ہی ہمارے لئے اس مسئلے کا فقہی حل اور فیصلہ ہے۔پہلی بات تو ہمیشہ یہ یاد رکھنی چاہئے کہ اسلام پر عمل کی بنیاد تقویٰ ہے۔اس لئے تقویٰ کو سامنے رکھتے ہوئے روزوں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کو سامنے رکھیں کہ " اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔" کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15) بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں مثلا رمضان کے بارے میں مختلف بچے بھی سوال کرتے ہیں کہ رمضان اور عید وغیرہ جو ہیں ہم غیر احمدی مسلمانوں سے مختلف وقت میں کیوں پڑھتے ہیں یا کیوں شروع کرتے ہیں۔اول تو یہ کوئی اصول نہیں کہ ہمارے رمضان شروع کرنے کے دن اور عید کا دن ضرور مختلف ہو۔اور نہ ہی ہم جان بوجھ کر اس میں اختلاف کرتے ہیں۔کئی ایسے بھی سال آئے ہیں اور آتے ہیں کہ ہمارے اور دوسرے مسلمانوں کے روزے اور عید ایک ہی دن ہوتے ہیں۔پاکستان میں اور مسلمان ممالک میں جہاں رؤیت ہلال کمیٹیاں حکومت کی طرف سے بنی ہوئی ہیں جب وہ یہ اعلان کرتی ہیں کہ چاند نظر آگیا ہے اور گواہوں کی موجودگی ہے تو ہم احمدی مسلمان بھی اس کے مطابق اپنے روزے رکھتے ہیں اور روزے ہمارے ختم بھی اس کے مطابق ہوتے ہیں اور عید بھی اس کے مطابق منائی جاتی ہے۔ان ملکوں میں جو مغربی ممالک ہیں، یورپین ممالک ہیں نہ ہی حکومت کی طرف سے کسی رؤیت ہلال کا انتظام ہے اور نہ ہی اس کا اعلان کیا جاتا ہے۔اس لئے ہم چاند نظر آنے کے واضح امکان کو سامنے رکھتے ہوئے روزے شروع کرتے ہیں اور عید کرتے ہیں۔ہاں اگر ہمارا اندازہ غلط ہو اور چاند پہلے نظر آجائے تو پھر عاقل بالغ گواہوں کی گواہی کے ساتھ ، مومنوں کی گواہی کے ساتھ کہ انہوں نے چاند دیکھا ہے پہلے بھی رمضان شروع کیا