خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 302 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 302

خطبات مسرور جلد 14 302 23 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 جون 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 03 جون 2016ء بمطابق 03 احسان 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: انشاء اللہ تعالیٰ تین چار دن تک رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہونے والا ہے۔ان دنوں میں روزے لمبے دن ہونے کی وجہ سے گرم ممالک میں بڑے سخت بھی ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہر صحت مند بالغ پر یہ فرض ہیں۔ہاں بعض حالات میں روزے رکھنے میں سہولت بھی دی گئی ہے۔ان گرم ممالک میں بھی بعض مزدوروں کو یا بعض اور شرائط ہیں کہ اگر ایسے حالات ہوں کہ وہ روزے نہ رکھ سکیں تو سہولت ہے۔اسی طرح بعض ممالک جہاں آجکل بائیس تیس گھنٹے کا دن ہے اور صرف ڈیڑھ دو گھنٹے کی رات ہے، وہ بھی رات نہیں بلکہ روشنی ہی رہتی ہے یا جھٹ پٹے کا وقت رہتا ہے اس لئے وہاں کی جماعتوں کو بتا دیا گیا ہے کہ وقت کے اندازے کے مطابق اپنی سحری اور افطاری کے وقت مقرر کرلیں جو آجکل اکثر جگہ قریبی ملکوں کے اوقات پر محمول کر کے یا ان کے اوقات کا اندازہ رکھتے ہوئے تقریباً اٹھارہ انہیں گھنٹے کا روزہ ہو گا۔ان ملکوں میں اگر اس طرح نہ کیا جائے تو سحری اور افطاری کا کوئی وقت ہی نہیں ہو گا۔نہ تہجد پڑھی جاسکے گی نہ ہی عشاء اور فجر کی نمازوں کے اوقات معین ہو سکیں گے۔بہر حال ان علاقوں میں جو جماعتیں ہیں وہ اس کے مطابق عمل کرتی ہیں، کس طرح انہوں نے ایڈجسٹ کرنا ہے۔روزے اسلام کے بنیادی رکنوں میں سے ہیں اور انہیں پورا کرنا بھی ضروری ہے۔روزوں کے متعلق بعض چھوٹے چھوٹے سوال بھی اٹھتے ہیں۔سحری کے وقت کے متعلق، افطاری کے متعلق، بیماری کے متعلق، مسافر کے متعلق، اس طرح مختلف سوال ہوتے ہیں۔جماعت میں اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہر سال لاکھوں لوگ مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں سے بھی اور غیر مذاہب میں سے بھی شامل ہوتے ہیں۔مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں بھی بعض احکامات کے بارے میں مختلف فقہی نظریات ہیں۔ان نظریات کے ساتھ جب وہ جماعت میں آتے ہیں تو بعض باتیں ان میں بے چینیاں پیدا کر دیتی ہیں۔بعض وضاحتیں وہ لوگ چاہتے ہیں۔بعض تفصیلات چاہتے ہیں یا