خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 300 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 300

خطبات مسرور جلد 14 300 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 مئی 2016 لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہو گئے اور انہوں نے مکرم داؤد صاحب کو فوری طور پر قریبی واقع ہسپتال میں پہنچایا جہاں سے فرسٹ ایڈ کے بعد دونوں کو لیاقت نیشنل ہسپتال شفٹ کر دیا گیا جہاں ڈاکٹر ز نے داؤ دصاحب کا آپریشن بھی کیا لیکن پیٹ میں لگنے والی گولیوں نے جگر اور بڑی اور چھوٹی آنت کو شدید متاثر کیا تھا۔سینہ میں لگنے والی گولیوں سے بہت زیادہ خون ضائع ہو گیا تھا اس لئے جانبر نہ ہو سکے اور آپریشن کے دوران ہی جام شہادت نوش فرمایا۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔ان کے غیر از جماعت دوست جو زخمی تھے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہتر ہیں۔شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے دادا حضرت مولوی الف دین صاحب آف چونڈہ ضلع سیالکوٹ کے ذریعہ سے ہوا تھا جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔پھر یہ خاندان ربوہ شفٹ ہو گیا اور 1956ء میں ربوہ میں ان کی پیدائش ہوئی۔ان کے والد نیوی میں ملازم تھے پھر یہ کراچی چلے گئے اور وہاں پھر انہوں نے تعلیم حاصل کی۔ان کا ایک حادثے میں بازو بھی ضائع ہو گیا تھا لیکن انہوں نے کبھی بازو کی کمی کو اپنے کام میں حائل نہیں ہونے دیا۔بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔بڑے نرم مزاج، علاقے کی ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ایماندار ، نیک دل، نیک سیرت ، شریف النفس انسان تھے۔وقوعہ کے بعد تحقیق کرنے والے ادارے جب علاقے کے لوگوں سے معلومات لے رہے تھے تو ہر شخص کا یہی کہنا تھا کہ یہ شخص تو کسی سے جھگڑا نہیں کر سکتا۔جھگڑا کرنا تو دور کی بات ہے یہ تو دوسروں کی مدد کیا کرتے تھے اور دوسروں کے کام آنے والے نیک انسان تھے۔جماعتی خدمات میں بھی پیش پیش رہے۔آپ کا گھر عرصہ 18 سال تک نماز سینٹر کے طور پر استعمال ہو تارہا اور اسی طرح انصار اللہ اور جماعتی کاموں میں بھی خدمت کی ان کو توفیق ملی۔ان کا ایک بیٹا اس وقت جامعہ احمدیہ میں چوتھے سال میں پڑھ رہا ہے۔ان کے دو بیٹے ملک سے باہر کام کر رہے تھے۔اللہ تعالیٰ شہید مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔تیسر اجنازہ مکرم محمد اعظم اکسیر صاحب کا ہے جو 25 مئی 2016ء کی صبح ربوہ میں 74 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ مکرم مولوی محمد اشرف صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ بھیرہ کے ہاں اکتوبر 1942ء میں قادیان میں پیدا ہوئے۔آپ کے خاندان میں احمدیت آپ کے دادا مکرم منشی محمد رمضان صاحب کے ذریعہ آئی جنہوں نے 1909ء میں بیعت کی تھی۔آپ حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب ہلالپورٹی کے نواسے اور مکرم مولوی محمد احمد صاحب جلیل کے بھانجے تھے۔آپ کے والد مکرم مولوی محمد اشرف صاحب بھی وقف جدید کے معلم تھے۔بنیادی تعلیم میٹرک تھی۔پھر آپ نے 1961ء میں زندگی وقف کی اور جامعہ میں داخلہ لے لیا۔جامعہ احمد یہ ربوہ میں داخل ہوئے۔1969ء میں وہاں سے شاہد کا امتحان پاس کیا۔اسی دوران ایف۔اے اور مولوی فاضل کا امتحان بھی پاس