خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 299 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 299

خطبات مسرور جلد 14 299 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2016 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں تھی لوگوں نے وہ ختم کرنے کی کوشش کی لیکن ختم نہیں ہوئی۔وہ آج بھی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی ختم نہیں کر سکتے۔اور یہ خلافت اور یہ نظام اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ جاری رہنے کے لئے ہے۔اگر ہم اپنے وسائل کو دیکھیں تو اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ اتنی بڑی تعداد تک اسلام کا پیغام پہنچا سکتے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے یہ فیصلہ کر لیا ہو کہ اس نے یہ پیغام زمین کے کناروں تک پہنچانا ہے تو پھر ان ترقیات کو کون ہے جو روک سکتا ہے۔کوئی دنیاوی طاقت روک نہیں سکتی اور ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہمیشہ وفا کے ساتھ خلافت احمدیہ کے ساتھ منسلک رکھے اور ہم اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو مزید شان سے جلد از جلد پورا ہو تا ہوا دیکھ سکیں۔نماز کے بعد میں تین جنازے بھی پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ حاضر ہے اور دو غائب۔جنازہ حاضر ہے مکرم چوہدری فضل احمد صاحب وقف کا ہے جو ماسٹر غلام محمد صاحب مرحوم آف ننکانہ کے بیٹے تھے۔23 /مئی 2016ء کو 80 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ حضرت عمر دین صاحب بنگوئی صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نواسے اور مولوی کرم الہی صاحب ظفر مرحوم کے بھتیجے تھے۔لمبا عرصہ منڈی بہاؤالدین میں رہے۔پھر جرمنی شفٹ ہو گئے۔چند سال سے لندن میں مسجد فضل کے حلقہ میں مقیم تھے۔ساری زندگی مختلف عہدوں پر جماعت کی خدمت کی توفیق ملی۔منڈی بہاؤالدین میں بھی سیکرٹری مال، سیکرٹری تعلیم القرآن اور امام الصلوۃ وغیرہ عہدوں پر فائز رہے۔جہاں بھی رہے سینکڑوں بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کی توفیق ملی۔1987ء کے رمضان المبارک میں کلمہ طیبہ کے کیس میں اسیر راہ مولی رہنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔انتہائی نیک، صالح، قرآن کریم سے محبت کرنے والے شفیق اور بزرگ انسان تھے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔دوسرا جنازہ مکرم داؤد احمد صاحب شہید ابن مکرم حاجی غلام محی الدین صاحب کا ہے جو کراچی میں رہتے تھے۔24 مئی 2016ء کو 60 سال کی عمر میں مخالفین احمدیت نے رات تقریباً 9 بجے آپ کو گھر کے باہر فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔تفصیلات کے مطابق داؤ د احمد صاحب اپنے گھر کے باہر ایک غیر از جماعت کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ان کے دوست ابھی تھوڑے فاصلے پر ہی تھے کہ اسی دوران ایک موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد آئے اور پیچھے بیٹھے ہوئے شخص نے موٹر سائیکل سے اتر کر آپ پر فائرنگ کر دی۔غیر از جماعت دوست ان کی مدد کے لئے آگے بڑھے تو حملہ آوروں نے ان کی ٹانگوں پر بھی فائر کئے اور موقع سے فرار ہو گئے۔فائرنگ کے نتیجہ میں مکرم داؤد صاحب کو تین گولیاں لگیں جو سینے اور پیٹ سے آرپار ہو گئیں۔فائرنگ کی آواز سن کر ارد گرد سے