خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 298 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 298

خطبات مسرور جلد 14 298 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2016 خلفائے راشدین کے زمانے میں جب حقیقی خلافت تھی تو حضرت عمر کے زمانے میں کیا ہو ا۔شام اور عراق میں ایسا امن قائم کیا کہ وہاں کے عیسائی اس وقت جبکہ رومن حکومت نے دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی، روتے تھے کہ مسلمان دوبارہ واپس آئیں۔اور جب مسلمان دوبارہ واپس آئے تو انہوں نے خوشیاں منائیں۔(ماخوذ از الفاروق از علامہ شبلی نعمانی صفحہ 114 ادارۃ اسلامیات) لیکن اب کیا ہو رہا ہے۔شام اور عراق میں خلافت کے نام پر جو تحریک شروع ہوئی ایک تو اس میں کوئی طاقت نہیں تھی، حقیقت نہیں تھی اور شروع میں جو ابتدائی طاقت تھی وہ بھی اب ختم ہو گئی اور کوئی زور نہیں رہا۔جو کام خلافت کے نام پر شروع ہوا تھا دو تین سال میں بلکہ اس سے بھی کم عرصے میں وہ صرف ایک تنظیم کا نام رہ گیا جس نے نہ اپنوں کو امن دیا ہے نہ غیروں کو امن دیا ہے۔وہاں جانے والے بہت سے ایسے ہیں جو اسلام اور خلافت کے نام پر ایک جذبے کے ساتھ گئے تھے۔یہاں سے ، یورپ سے بھی جاتے رہے لیکن غیر اسلامی حرکتیں دیکھ کر مایوس بھی ہوئے۔کئی ان میں ایسے ہیں جو واپس آنا چاہتے ہیں لیکن نہیں آسکتے۔یہ بھی میڈیا میں آرہا ہے۔خوف کی حالت میں رہ رہے ہیں۔تمام راستے ان کے لئے بند ہیں۔شدت پسندی کا یہ حال ہے کہ گزشتہ دنوں ایک خبر تھی کہ ایک عورت کا چھوٹا دودھ پیتا بچہ بھوک سے تڑپ رہا تھا اور گھر کا فاصلہ دور تھا۔عورت نے بالکل ایک علیحدہ جگہ جا کر درخت کے نیچے بچے کو دودھ پلانا شروع کیا تو اس وقت یہ اسلام کے نام نہاد ٹھیکیدار اور اسلام کی حفاظت کرنے والے آگئے اور ان نام نہاد خلافت کے سپاہیوں نے اس عورت سے اس کا بچہ چھینا کہ تم سڑک پر بیٹھی دودھ پلا رہی ہو۔حالانکہ بالکل ایک علیحدہ جگہ تھی اور پھر بچہ چھین کر گولیاں مار کر اس عورت کو مار دیا۔تو یہ وہ ظلم ہیں جو وہاں ہو رہے ہیں۔اور مارا اس بات پر کہ تم یہ غیر اسلامی فعل کر رہی ہو۔انہوں نے تو اپنوں کا امن بھی چھین لیا ہے تو غیروں کو انہوں نے کیا امن دینا ہے۔جیسا کہ میں نے مثال دی کہ حضرت عمر کے زمانے میں تو عیسائی بھی اس بات پر خوش تھے کہ ہمیں مسلمان امن دے رہے ہیں اور عیسائی امن نہیں دے رہے اور آج اس کے بالکل الٹ ہو رہا ہے۔لیکن یہ خلافت احمد یہ ہی ہے جو اپنوں اور غیروں کے خوف کو امن میں بدل رہی ہے اور مختلف لوگوں کے تاثرات سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات خلافت احمدیہ کے ساتھ ہیں اور کبھی کم نہیں ہو تیں اور جیسا کہ میں نے کہا کہ گزشتہ 108 سال کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ اگر یہ کسی انسان کا کام ہو تا تو کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔(ماخوذاز رسالہ دعوت قوم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 64) پس یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کا قیام اور خلافت کا وعدہ الہی وعدہ ہے اور وہی چیز جو