خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 297
خطبات مسرور جلد 14 297 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2016 ہے۔آپ کی جماعت تمام مسلم فرقوں سے بہتر ہے۔پھر ایک مہمان کہتی ہیں کہ جو پیغام خلیفہ نے دیا یہی اصل پیغام ہے جو تمام مذاہب نے اپنے آغاز میں دیا ہے۔ہر مذہب کی بنیادی تعلیم یہی ہے۔خلیفہ یکسانیت کی طرف بلا رہے ہیں۔آپ کی باتیں سن کر مجھے یقین ہو گیا ہے کہ دنیا کے مسائل مذہب کی وجہ سے نہیں ہیں۔اگر مسلمانوں کے ساتھ ہمارے اختلافات ہیں تو وہ مذہب کے نہیں ہیں بلکہ کلچر کے ہیں۔ڈنمارک میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں جو کوریج ہوئی ہے اس میں اس کا ایک نیشنل اخبار "کر سچن بلادت" ہے۔اس نے ہوٹل میں جو فنکشن ہوا تھا اس کی خبر دی۔پڑھنے والے تو پچاس ہزار ہی ہیں۔اسی طرح ایک اور ریڈیو 24 کی جر نلسٹ انٹرویو کے لئے مشن آئی اور تقریباً پونے گھنٹے کا انٹر ویو لیا اور پھر اس کو ڈینش ترجمہ کے ساتھ من و عن شائع کیا، سنایا۔اس ریڈیو کے ایک وقت میں سامعین کی تعداد پچیس سے چالیس ہزار ہے۔ٹی وی پی آر نے اپنی خبروں میں کوریج دی۔اس کے سامعین کی تعداد دو ملین ہے۔اسی طرح دوسرے میڈیا وغیرہ کے ذریعہ کل تقریباً تین ملین افراد تک اسلام کا یہ پیغام پہنچتا رہایا پہنچا۔اسی طرح سویڈن میں مختلف اخباروں اور ریڈیو چینل، ٹی وی چینل وغیرہ کے چھ انٹر ویو ہوئے اور نیشنل ٹی وی پر انہوں نے خبریں بھی دیں۔اس طرح مجموعی طور پر تقریبا آٹھ ملین کے قریب لوگوں تک سویڈن میں بھی پیغام پہنچا۔پس جس طرح جماعت کا پیغام پہنچ رہا ہے اور جس طرح لوگوں کے تاثرات ہیں وہ میں نے بیان کئے ہیں۔عمومی طور پر اسلام کی تعلیم سن کر ان لوگوں کو حقیقت کا علم ہوا ہے کہ اسلام کی حقیقی تعلیم اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے میں ہے اور اس کے ساتھ ہی سلامتی اور امن کا پیغام ہے اور حقوق العباد ادا کرنا ہے۔اور یہ لو گوں کو پتالگ گیا کہ جماعت احمد یہ کیونکہ خلافت کے ساتھ وابستہ ہے اس لئے یہ حقوق ادا کر رہی ہے۔پس یہ بنیادی چیز ہے کہ ہر احمدی اس بات کو سمجھے کہ خلافت کے ساتھ وابستہ رہ کر ہی یہ حقوق صحیح طور پر ادا ہو سکتے ہیں۔حقیقی خلافت صرف اپنوں کے خوف کو امن میں نہیں بدلتی بلکہ غیروں کے خوف کو بھی امن میں بدلتی ہے اور یہی اکثر تأثرات ہیں جو لوگوں نے بیان کئے ہیں۔انہوں نے یہ کہا ہے جس کا خلاصہ میں نے بیان کیا ہے کہ ان کی جو خوف کی حالتیں تھیں وہ یہاں ہمارے فنکشنوں پر آکر امن میں تبدیل ہو گئیں۔یہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اس وجہ سے اللہ تعالی کی تائیدات بھی ساتھ ہیں جو اسلام کی خوبصورت تعلیم کا دوسروں پر اثر ڈالتی ہیں۔اس لئے بعض نے قرآن کریم کو پڑھنے کا بھی اظہار کیا۔ایک دو کی مثالیں بھی میں نے پیش کیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہٹ کر اگر کوئی اس زمانے میں خلافت قائم کرنا چاہتا ہے یا چاہے گا تو وہ ناکام ہو گا اور امن قائم نہیں کر سکے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ خلافت اولی کے زمانے میں یا ابتدائی زمانے میں